’بیٹا بھی قصوروار پایا گیا تو کارروائی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس سمیت تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر کسی نے بھی سپریم کورٹ کے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے تو چاہے وہ ان کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کا از خود نوٹس لیا تھا جن میں ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کاروباری شخصیت ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عارف خلجی اور جسٹس جواد ایس خواجہ شامل ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو جب اس معاملے سماعت شروع ہوئی تو ارسلان افتخار نے عدالت میں پیش ہو کر ان پر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تاہم اس معاملے کی دوسری اہم شخصیت ملک ریاض کے پرسنل سٹاف افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض برطانیہ میں زیرِ علاج ہیں اس لیے پیش نہیں ہو سکتے۔

اس پر عدالت نے ان کی ملک میں عدم موجودگی کی صورت میں ان کے کاروباری معاملات کی نگرانی کرنے والے افراد کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی عدالت میں حاضر ہو کر اپنے پاس موجود وہ تمام ریکارڈ پیش کریں جس کا تعلق اس معاملے سے ہے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے چیف جسٹس کی جانب سے اس معاملے کی سماعت کرنے پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ ججوں کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل چار کے تحت یہ کیس نہیں سن سکتے۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ ضابطۂ اخلاق ججوں کے بارے میں ہے اور یہ معاملہ ان کے بیٹے کا ہے اور انہوں نے اس اعتراض کا نوٹس لیا ہے اور فیصلے میں اس کا ذکر کیا جائے گا۔

اس ازخود نوٹس کے بارے میں منگل کو رات گئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے خبروں کے مطابق ’یہ عنایات ڈاکٹر ارسلان پر اس لیے کی گئیں تاکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری پر اثرانداز ہوکر ان کے دل میں ملک ریاض کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا سکے۔ ایسا کرنے کا مقصد ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں حمایت حاصل کرنا تھا‘۔

ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور سرکاری ملازم تھے لیکن سنہ 2009 میں اپنے والد کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد اطلاعات کے مطابق انہوں نے نوکری سے استعفٰی دیدیا تھا۔

الزامات ایک سازش

ڈاکٹر ارسلان افتخار کے وکیل سردار اسحاق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکل پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں اور یہ الزامات چیف جسٹس کے مخالفین نے انہیں دبانے کے لیے ایک سازش کے تحت لگائے ہیں۔

انہوں نے اس ضمن میں وزیرِ اعظم کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا، وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی ایوانِ بالا سینیٹ کی رکنیت معطل ہونے، اور لاپتہ افراد کے مقدمے میں حکام پر عدالتی دباؤ کا حوالہ دیا۔

سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ ان مقدمات میں ملوث افراد ممکنہ طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ڈرانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کے حوالے سے کسی بھی طرح کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں