کراچی:’پانچ ماہ میں 750 افراد قتل کیےگئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹارگٹ کلنگ قرار دیے جانے کے بعد کیس کی تفتیش عموماً یہ کہہ کر بند کردی جاتی ہے کہ یہ انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں اس برس کے ابتدائی پانچ ماہ میں اب تک ساڑھے سات سو افراد قتل کیے جاچکے ہیں۔

قتل ہونے والوں میں زیادہ تر افراد ایسے ہیں جنہیں لسانی، گروہی، سیاسی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔

ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر تشویش اپنی جگہ، لیکن شہر کے سماجی و سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ جس طرح ریاستی ادارے اور ذرائع ابلاغ ان ہلاکتوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہیں وہ درست اور مثبت ہے یا نقصان دہ اور غلط۔

سِول سوسائٹی کے ان حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا قتل یا تشدد کے واقعات کی تفصیلات عام کرتے ہوئے یہ عنصر منظرِ عام پر لانا چاہیے کہ مقتول کس فرقے یا لسانی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔

بعض پولیس افسران کا کہنا ہے کہ پولیس کے لیے قتل ایک کیس ہوتا ہے جیسے ڈاکٹر کے لیے مریض۔ جب ڈاکٹر یہ تفریق نہیں کرسکتا کہ گولی سے زخمی مریض ڈاکو ہے یا سرکاری اہلکار، اسے تو بس علاج کرنا ہوتا ہے اسی طرح پولیس کو تفریق نہیں کرنا چاہیے کہ قتل کون ہوا، بلکہ پولیس کو اس واردات کی درست سمت میں تفتیش کرکے قتل کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

ان کے بقول اگر پولیس یہ کام نہ کر سکے یا اسے ’نہ کرنے دیا جائے‘ تو کم از کم یہ تشہیر نہیں کرنی چاہیے کہ قتل ہونے والا کِس قوم، گروہ یا فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔

ان افسران نے دورانِ گفتگو مثال دی کہ حالیہ دنوں میں پولیس نے شہر کے بعض علاقوں میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے والوں کی قومیت بتائی، جس کا ردعمل یہ ہوا کہ دو سے تین روز کے بعد ہی چار ایسے افراد کو ہدف بنا کر قتل کردیا گیا جن کا تعلق باآسانی سیاسی طور پر بظاہر مخالف گروہ سے جوڑا جاسکتا تھا۔

سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے بعض اہم افراد کا کہنا ہے کہ جب پولیس یہ بتاتی ہے کہ ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے افراد میں چار افراد ایک ہی جماعت یا گروہ کے قتل ہوئے ہیں اور ذرائع ابلاغ پر اس کی تشہیر ہوتی ہے تو اس سے مخالف گروہ یا جماعت میں انتقامی کارروائی کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور تشدد پھوٹ پڑنے کے اندیشے نہ صرف شدت اختیار کرجاتے ہیں بلکہ ایسے واقعات بھی رونما ہونے لگتے ہیں جنہیں جوابی کارروائی سمجھا جاسکتا ہے۔

ان حلقوں کے مطابق شہر میں جائز اور ناجائز اسلحے کی بہتات ہے اور پولیس کسی واردات کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر جان چھڑوانا چاہتی ہے اور ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیے جانے کے بعد کیس کی تفتیش عموماً یہ کہہ کر بند کردی جاتی ہے کہ یہ انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس صرف اپنا کام درست سمت میں کرلے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے تک پہنچا دے تو بھی کراچی میں تشدد اور قتل و غارتگری تھم نہیں تو کم ضرور ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں