کوہستان مقدمہ:’لڑکیوں کو جمعرات کو پیش کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد افضل نے عدالت کو بتایا کہ چار خواتین کو قتل کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں اُن کے پاس گواہ اور دیگر شہادتیں بھی موجود ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوہستان کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ان پانچ لڑکیوں کو جمعرات کی دوپہر ایک بجے تک عدالت میں پیش کریں جنہیں شادی کی تقریب میں لڑکوں کے ڈانس پر تالیاں بجانے کی پاداش میں مقامی جرگے نے مبینہ طور پر موت کی سزا سُنائی ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پانچ لڑکیوں کو بدھ کی شام تک عدالت میں پیش کیا جائے۔

تاہم موسم کی خرابی کے باعث انتظامیہ نے مہلت مانگ لی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان عمر زئی نے کہا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے وہ داسو سے آگے نہیں جا سکے اس لیے سپریم کورٹ میں لڑکیوں کو کل یعنی جمعرات کے روز ہی اب پیش کیا جا سکے گا۔

داسو سے ٹیلیفو پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان عمر زیی نے بتایا کہ علاقے میں موسم انتہائی خراب ہے بارش ہو رہی ہے اور مشکل سے ان کے ہیلی کاپٹر لینڈ کر پائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب کل ہی وہ متعلقہ مقام پر پہنچ کر لڑکیوں تک رسائی کی کوشش کریں گے جس کے بعد انہیں سپریم کورٹ میں پیش کیا جا سکے گا۔

شادی کی تقریب میں ڈانس کی یہ ویڈیو چند روز قبل منظر عام پر آئی تھی جس میں دو لڑکوں کو ڈانس کرتے ہوئے جبکہ پانچ لڑکیوں کو اس پر تالیاں بجاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ان پانچ لڑکیوں کی ہلاک کردیا گیا ہے تو کل دوپہر تک ان کے قتل کا حکم دینے والوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس ویڈیو کے خالق محمد افضل خان کا دعویٰ ہے کہ ان پانچ لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے اور جرگے کے لوگ مارنے کے لیے انہیں بھی تلاش کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ محمد افضل خان ان دو لڑکوں، گُل نذر اور بن یاسر، کے بھائی ہیں جن کو ویڈیو میں ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں لڑکے صوبائی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو ہزارہ ڈویژن کے کمشنر خالد عمر یوسفزئی اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہزارہ ڈویژن ڈاکٹر نعیم نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔

اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ دو روز قبل اُس علاقے میں گئے تھے جہاں پر مبینہ طور پر یہ واقعہ رونما ہوا تھا لیکن وہاں سے ایسے کسی واقعہ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عدالت کے استفسار پر ان سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ وہ اُن لڑکیوں سے نہیں ملے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔

تاہم محمد افضل نے عدالت کو بتایا کہ پانچ خواتین کو قتل کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں اُن کے پاس گواہ اور دیگر شہادتیں بھی موجود ہیں۔

ڈی آئی جی ڈاکٹر نعیم خان کا کہنا تھا کہ اگر وہ گواہ اور دیگر شہادتیں پولیس کو دے دیں تو پولیس ابھی ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

کمشنر خالد عمر یوسفزئی اور ڈی آئی جی ڈاکٹر نعیم نے عدالت میں علاقے کے اُس مولوی کو بھی پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر لڑکیوں کو قتل کرنے سے متعلق فتویٰ جاری کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک ان لڑکیوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا اُس وقت تک عدالت ان افسران کے بیان کو درست تسلیم نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس نے ہزارہ ڈویژن کے ان افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے امور احسن طریقے سے انجام نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک سے کہا کہ وہ ان افسران کو کوہستان کے علاقے میں جانے کے لیے ہیلی کاپٹر سمیت تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کو اس لڑکیوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے کوہستان بھی جانا پڑا تو اس سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی وجہ سے ملک کی پوری دنیا میں بدنامی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں