توہین عدالت مقدمہ، نوٹسز جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنا اُس فیصلے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ملنے کے باوجود عہدے پر فائض رہنے اور عدالتی فیصلے پر قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سےمتعلق دائر درخواستوں پرنوٹسز جاری کیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر وفاق، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے ان افراد سے اس ماہ کی چودہ تاریخ تک جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ نوٹسز بدھ کے روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پاکستان مسلم لیگ نون کے خواجہ آصف اور دیگر چار درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گُزاروں کا موقف تھا کہ چھبیس اپریل کو وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ملنے کے بعد یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کے عہدے پر فائض نہیں رہ سکتے۔

اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی نے رولنگ دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح طور پر اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کر کے وزیر اعظم نے جان بوجھ کر عدلیہ کا مذاق اُڑایا جبکہ آئین کے مطابق عدلیہ کی تضحیک کرنے والا رکن پارلیمان نااہل ہو جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نا اہل ہوچکے ہیں اور اُن کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کی گئی ہے جس پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی طرف سے توہین عدالت کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف کوئی تحریری درخواست دائر نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنا اُس فیصلے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سزا صرف کسی کو موت کی سزا دینا ہی نہیں بلکہ بینچ کے اُٹھنے تک کی سزا بھی سزا ہی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اپنی سزا کو تسلیم کر لیا ہے جس میں وہ توہین عدالت کے مرتکب قرار دیے گئے تھے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کی نظر میں عہدوں کی اہمیت ہوتی ہے اُنہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ اُن کے خلاف کیا فیصلے آرہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

درخواست گُزار اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کی طرف سے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اقدام کرنا اس فیصلے پر عمل درآمد رکوانے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اُن کی نظر میں وزیر اعظم نے عدلیہ کا مذاق نہیں اُڑایا۔

اسی بارے میں