ارسلان کیس: چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس مقدمے کی سماعت گیارہ جون تک کے لیے متلوی کرد ی گئی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات کے معاملے کی سماعت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کو سنیچر کے روز تک ابتدائی تحریری بیان داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ایف بی آر کے چیئرمین کو ملک ریاض کے اثاثوں اور اُنہوں نے جتنا ٹیکس جمع کروایا ہے اُس کی تفصیلات آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر ارسلان کو عدالت کو پیشی سے مستثنیٰ قرار دینے سے متعلق درخواست کو مسترد کر دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کی معاملہ سننے والے بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا جس کے بعد چیف جسٹس نے مختصر فیصلے میں کہا کہ یہ اعتراض بجا ہے اور وہ اس کیس کی سماعت سے الگ ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے خود اس معاملے کی سماعت کرنے پر اعتراضات کیے جا رہے تھے اور گزشتہ روز بدھ کو اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ججوں کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل چار کے تحت انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

اس معاملے کے اہم کردار ملک ریاض دوسرے دن بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وہ علیل ہیں اور ایک ہفتے کے بعد ہی پیش ہو سکتے ہیں۔

اس پر عدالت نے زاہد بخاری سے کہا کہ چونکہ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے اپنے موکل کو مطلع کر دیں کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کا انٹرویو دینے یا معاملے پر رائے زنی سے گریز کریں۔

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل برطانیہ میں زیر علاج ہیں اس لیے ایک ہفتے تک اس مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی جائے جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں چیف جسٹس کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس بینچ میں موجود ججز کی قابلیت پر اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہے چونکہ یہ بینچ چیف جسٹس نے تشکیل دیا ہے اس لیے مذکورہ جج صاحبان اس بینچ میں شامل نہ ہوں جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ملک ریاض اور اُن کے بیٹے علی احمد ریاض کو پیش ہونے کو کہا ہے۔

سماعت کے دوران نجی ٹی وی کے صحافی اور ٹی وی میزبان کامران خان نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس میں انہوں نے انہیں دکھائی گئی دستاویزات کی تفصیل بیان کی۔

کامران خان نے بتایا کہ’ملک ریاض نے انہیں جو دستاویزات دکھائی تھیں، ان کے مطابق سال دو ہزار نو، دس اور گیارہ میں ارسلان افتخار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے لندن گئے تھے اور وہاں پر جس فلیٹ میں ٹھہرے اس کی ادائیگی ملک ریاض کے داماد کے کریڈٹ کارڈ سے کی گئی اور دستاویزات کے ساتھ ارسلان افتخار کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں بھی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے اعتراض کو درست قرار دیا

خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے منگل کو رات گئے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کا از خود نوٹس لیا تھا جن میں ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کاروباری شخصیت ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

اس ازخود نوٹس کے بارے میں منگل کو رات گئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور سرکاری ملازم تھے لیکن سنہ 2009 میں اپنے والد کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد اطلاعات کے مطابق انہوں نے نوکری سے استعفٰی دیدیا تھا۔

اسی بارے میں