کوہستان مقدمہ:’دو لڑکیوں سے ملاقات ہوگئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد افضل نے عدالت کو بتایا کہ چار خواتین کو قتل کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں اُن کے پاس گواہ اور دیگر شہادتیں بھی موجود ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری غلام دستگیر نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کوہستان واقعہ کی تحقیق کرنے والی ٹیم نے ان چار میں سے دو لڑکیوں سے ملاقات کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہیں جرگے کے حکم پر قتل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو ان خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو صوبہ خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان پانچ لڑکیوں کو جمعرات کی دوپہر تک عدالت میں پیش کریں جنہیں شادی کی تقریب میں لڑکوں کے ڈانس پر تالیاں بجانے کی پاداش میں مقامی جرگے نے مبینہ طور پر موت کی سزا سُنائی ہے۔

عدالت کے حکم پر حکام اور غیر سرکاری تنظیموں کی ارکان کی ٹیم کوہستان گئی تھی اور اس ٹیم کی ایک رکن فرزانہ باری نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ان کی چار میں سے دو لڑکیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان لڑکیوں کے نام آمنہ اور شاہین ہیں۔

فرزانہ باری نے مزید بتایا کہ انہوں نے ان دونوں لڑکیوں کی ویڈیو بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی باقی دو لڑکیوں سے ملاقات نہیں ہو سکی کیونکہ وہ وہاں سے کافی فاصلے پر ہیں تاہم وہ بھی زندہ ہیں اور ایک دن میں ان سے ملاقات بہت مشکل ہے۔

فرزانہ باری نے کہا کہ ان دو خواتین سے ملاقات کے بعد ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ باقی دو لڑکیاں بھی زندہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ویڈیو منظر عام پر آئی ہے وہ کسی شادی کی نہیں بلکہ ڈیڑھ سال پہلے ایک نجی تقریب کی ہے۔

شادی کی تقریب میں ڈانس کی یہ ویڈیو چند روز قبل منظر عام پر آئی تھی جس میں دو لڑکوں کو ڈانس کرتے ہوئے جبکہ پانچ لڑکیوں کو اس پر تالیاں بجاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ان پانچ لڑکیوں کی ہلاک کردیا گیا ہے تو کل دوپہر تک ان کے قتل کا حکم دینے والوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس ویڈیو کے خالق محمد افضل خان کا دعویٰ ہے کہ ان پانچ لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے اور جرگے کے لوگ مارنے کے لیے انہیں بھی تلاش کر رہے ہیں۔

کمشنر ہزارہ ڈویثرن خالد عمر یوسف زئی نے صحافیوں کو بتایا کہ محمد افضل ایک جھوٹا شخص ہے اور اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے کا مقصد امریکی یا کینڈین شہریت کا حصول ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی تو کمشنر کا کہنا تھا کہ افضل کوہستانی نے چونکہ عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ انہیں ہزارہ ڈویثرن کی انتظامیہ اور پولیس سے خطرہ ہے اس لیے اسے ان سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

محمد افضل خان ان دو لڑکوں، گُل نذر اور بن یاسر، کے بھائی ہیں جن کو ویڈیو میں ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں لڑکے صوبائی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو ہزارہ ڈویژن کے کمشنر خالد عمر یوسفزئی اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہزارہ ڈویژن ڈاکٹر نعیم نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔

اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ دو روز قبل اُس علاقے میں گئے تھے جہاں پر مبینہ طور پر یہ واقعہ رونما ہوا تھا لیکن وہاں سے ایسے کسی واقعہ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عدالت کے استفسار پر ان سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ وہ اُن لڑکیوں سے نہیں ملے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔

تاہم محمد افضل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پانچ خواتین کو قتل کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں اُن کے پاس گواہ اور دیگر شہادتیں بھی موجود ہیں۔

کمشنر خالد عمر یوسفزئی اور ڈی آئی جی ڈاکٹر نعیم نے عدالت میں علاقے کے اُس مولوی کو بھی پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر لڑکیوں کو قتل کرنے سے متعلق فتویٰ جاری کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک ان لڑکیوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا اُس وقت تک عدالت ان افسران کے بیان کو درست تسلیم نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں