’دو ارب کے بقایاجات نیٹو پر واجب الادا ہیں‘

نیٹو کنٹینرز
Image caption ’دو ارب روپے کے بقایاجات نیٹو پر واجب الادا ہیں‘

وفاقی وزارتِ پورٹس اینڈ شپنگ نے تصدیق کی ہے کہ کراچی پورٹ پر نیٹو کی تقریباً چار ہزار گاڑیاں اور لگ بھگ دو ہزار کنٹینرز موجود ہیں۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے افسر تعلقات عامہ شفیق فریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی پورٹ پر انیس سو تراسی کنٹینر اور تین ہزار آٹھ سو اکاون گاڑیاں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیس فٹ کے کنٹینر کا یومیہ کرایہ چودہ سو روپے جبکہ چالیس فٹ کے کنٹینر کا اٹھائیس سو روپے ہے جس کے حساب سے تقریباً دو ارب روپے کے بقایاجات نیٹو پر واجب ادا ہیں۔

دوسری جانب پورٹ قاسم کی بندرگاہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً دو ہزار کنٹینر اور لگ بھگ اٹھارہ سو گاڑیاں وہاں بھی موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھبیس نومبر کو نیلاو رسد روکنے کے بعد تقریباً پچیس سو کنٹینرز جہاز سے اتارے بغیر پاکستانی بندرگاہوں سے واپس بھی بھیجے جا چکے ہیں اور طورخم اور چمن کی سرحدوں سے واپس آنے والے گاڑیوں کی تعداد تین ہزار نو سو پچانوے ہے۔

یاد رہے کہ سرحدی چوکی سلالہ چیک پوسٹ پر پچھلے سال چھبیس نومبر کو نیٹو کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوج ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج کی پاکستان کے راستے رسد روک دی تھی۔

پاکستان کی پارلیمان نے متفقہ قرارداد منظور کی جس میں امریکہ سے سلالہ چیک پوسٹ حملے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے رسد روکے جانے پر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں