کوئٹہ: مدرسے کے باہر دھماکہ، پندرہ ہلاک

فائل فوٹو، کوئٹہ میں دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعات آئے روز پیش آتے رہتے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکام کے مطابق ایک بم دھماکے میں بچوں سمیت کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اڑتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

جمعرات کو دھماکہ ایک مدرسہ جامعہ اسلامیہ ِمفتاح العلوم کے سامنے ریڑی میں ہوا۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں مفتاح العلوم مدرسے کے سامنے کھڑی ریڑی میں بم نصب کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ مدرسہ مولانا سمیع اللہ گروپ کا تھا اور دھماکے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر مدرسے کے طالب علم ہیں۔

دھماکہ اس وقت ہوا جب مدرسے میں دستار بندی کے بعد طلبہ میں انعامات تقسیم کیے جا رہے تھے اور تقریب کے موقع پر مدرسے میں علماء اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

دھماکے کے بعد ہلاک و زخمی ہونے والوں کو فوری طور پرسول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیاگیا۔ جہاں سے شدید زخمیوں کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال یا سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیاگیا۔

صوبائی سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ نے دھماکے کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی ہے جبکہ پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سول ہسپتال پہنچ گئے ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئےاور علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دھماکے سے مدرسے کی عمارت سمیت قریبی دکانوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں