لاپتہ افراد کے لیے بنے کمیشن پر عدم اعتماد

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جلوس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’وائس فار مسنگ بلوچ پرسن نے کہا کہ کمیشن پر ہمیں اس لیے اعتماد نہیں کہ ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کے ذمہ داران اس کی سماعت میں بیٹھ رہے تھے۔‘

بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے لاپتہ افراد کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مستعفی ہوجا نا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال ایبٹ آباد کمیشن کی کارروائی کے لیے اسلام آباد میں زیادہ مصروف رہے اور انہوں نے بلوچستان کا کوئی دورہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے تو کمیشن کے ذمہ داروں کو خیال آیا اور وہ یہاں آئے ہیں لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین نے کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کےسربراہ نصراللہ بلوچ نے یہ بات کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے وائس چیئر میں عبدالقدیر بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین بھی موجود تھے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ہم نے اپنے خدشات و تحفظات کا اظہار پہلے بھی کیا ہے اور ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا لیکن مذکورہ کمیشن نے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے عبدالذاکر بنگلزئی سمیت اٹھارہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کے دعوے کئے جارہے ہیں تو اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کمیشن کی کوششوں سے کوئی ایک بھی لاپتہ شخص بازیاب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن پر ہمیں اعتماد اس لئے نہیں کہ ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کے ذمہ داران اس کی سماعت میں بیٹھ رہے تھے جو خود ہمارے حریف ہیں اور اس لئے ہم نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت سے کسی حد تک مطمئن ہیں کہ لاپتہ افراد بازیاب ہوئے۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے سپریم کورٹ میں آنے والے شواہد اداروں کے خلاف ہیں اس لئے حکومتی ذمہ داروں نے سپریم کورٹ کے سامنے یقین دہانی کرائی کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی بلوچستان جائے گی جو لاپتہ افراد کے معاملے میں الزامات کی چھان بین کرے گی اور ان کو منظر عام پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایک سو ساٹھ سے زائد لاپتہ افراد کے مقدمات سپریم کورٹ میں درج کروا چکے ہیں محمد خان مری ،عبدالنبی مری کو لاپتہ کرنے کے حوالے سے پولیس انتظامیہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کیں سپریم کورٹ نے انہیں بازیاب کرانے کا حکم دیا لیکن ان کی لاشیں ملیں۔

انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ لاپتہ افراد کے تمام مقدمات کو بنچ ون میں ٹرانسفر کریں اور خود کوئٹہ آکر ان کی سماعت کریں۔

اسی بارے میں