کوہستان: عدالت نے انتظامیہ کا موقف مان لیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلعی انتظامیہ نے لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان میں ایک ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد چند لڑکیوں کے مبینہ قتل سے متعلق معاملہ انتظامیہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کی طرف سے ان کے زندہ ہونے کی تصدیق کے بعد تقریبا حل ہوچکا ہے۔

عدالت کی طرف سے ان کا موقف تسلیم کیے جانے کے بعد جہاں ایک طرف ہزارہ ڈویژن کی مقامی انتظامیہ نے سُکھ کا سانس لیا تو وہاں دوسری طرف اُن تین بھائیوں کے خلاف گھیرا تنگ کیے جانے کا امکان ہے جنہوں نے اس ویڈیو میں ڈانس کیا اور ویڈیو فلم بنائی۔

بن یاسر اور گُل نذیر اس وقت خیبر پختونخوا کی پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ اس کے برعکس یہ ویڈیو بنانے والے محمد افضل خان کی حفاظت کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس نے لے رکھی ہے۔

کوہستان کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد افضل کی طرف سے اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے کا مقصد امریکہ یا کینڈا کی شہریت حاصل کرنا تھا اور اس ضمن میں ان ملکوں کے سفارتخانوں میں انہوں نے درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

کوہستان پولیس نے بن یاسر اور گُل نذیر کو اس لیے حراست میں لیا کیونکہ وہ اس ویڈیو میں ڈانس کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں اور اس ویڈیو کے منظر عام آنے کے بعد علاقے میں اشتعال پھیلنے کا اندیشہ تھا۔

اس ویڈیو کے بنانے والے افضل خان ابھی بھی اپنے دعوے پر قائم ہیں کہ شادی کی تقریب میں لڑکوں کے ڈانس پر جن چار لڑکیوں نے تالیاں بجائی تھیں، انہیں قتل کردیا گیا ہے۔

اس ویڈیو سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بظاہر مقامی انتظامیہ کا موقف درست تسلیم کرلیا ہے۔

جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت تک اسلام آباد پولیس کے اہلکار محمد افضل کی سکیورٹی پر مامور تھے جبکہ اس کے بعد سے نہ تو اُن سے موبائل فون پر رابطہ ممکن ہوسکا اور نہ ہی اسلام آباد پولیس اس اطلاع کی تصدیق کر رہی ہے کہ محمد افضل کو کسی دوسرے صوبے یا ایجنسی کے حوالے کیا گیا ہے۔

محمد افضل نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ اُنہیں کمشنر ہزارہ ڈویژن اور ڈی آئی جی ہزارہ سے جان کا خطرہ ہے اس لیے اُنہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ محمد افضل کی سپریم کورٹ میں دی جانے والی اس درخواست کو مسترد کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ہی درخواست دائر کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ان لڑکیوں سے متعلق میڈیا اور عوام کو غلط اطلاع دینے پر محمد افضل کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق غلط خبریں پھیلانے کی سزا دو سال تک ہوسکتی ہے۔

محمد افضل کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ گُزشتہ چار سال سے ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہے اور وہ اس عرصے کے دوران ایک مرتبہ بھی اپنے گاؤں نہیں گئے۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ ایبٹ آباد میں نجی سیکٹر میں نوکری کرتے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق محمد افضل خان پر تین مقدمات درج ہیں جن میں ایک مقدمہ والد سے جائیداد ہتھیانے کا ہے جبکہ دوسرا اپنے بھانجے کو چند جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ مل کر اغوا کرنے اور تاوان کی رقم وصول کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

مقامی پولیس افسر ناصر جدون کا کہنا ہے کہ کوہستان کے علاقے کی رسم رواج کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان تینوں بھائیوں کا اپنے علاقے میں جانا اب بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ان افراد کو قانون سے امداد مل بھی جائے تو بھی اُن لڑکیوں کے ورثاء ان سے انتقام لیں گے۔

خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظمیں جو اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد محمد افضل اور اُس کے بھائیوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھیں، حقائق کے منظر عام پر آنے کے بعد ان بھائیوں سے کتراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اسی بارے میں