’بیرونی خفیہ ادارے بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کی فہرست بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی بجائے مکمل فہرست جمع کرائیں

لاپتہ افراد سے متعلق عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ اور حالات خراب کرنے کے لیے بیرونی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی فہرست بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی بجائے انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مکمل فہرست جمع کرائیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق کمیشن کے سربراہ نے سنیچر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے اور لوگوں کو لاپتہ کرنے میں بیرونی خفیہ ادارے ملوث ہیں جن کے پاس مکمل نیٹ ورک، اسلحہ ، تربیت اور دیگر وسائل موجود ہیں اور ان کے مقابلے میں ہمارے اداروں خصوصاً بلوچستان پولیس کی استعداد کار ، تربیت اور وسائل کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ایجنسیوں کے خلاف ہمارے اداروں نے وہ کامیابی حاصل نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ مدِ مقابل وہ بیرونی ایجنسیاں ہیں جو سب کچھ سیٹلائٹ سے دیکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ صوبائی، قومی اور کسی حد تک بین الاقوامی سطح پر اہم مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے گیارہ سے پندرہ افراد افغانستان کی پل چرخی اور پکتیکا جیلوں میں قید ہیں جن تک ہمیں رسائی حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کے کمیشن کی کوئٹہ آمد میں تاخیر کی وجہ ایبٹ آباد کمیشن ہے۔ تاہم بلوچستان نہ آنے کے باوجود لاپتہ افراد کے کمیشن نے اسلام آباد میں اپنا کام جاری رکھا۔

کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کمیشن جلد بلوچستان کےعلاقوں خضدار، پنجگور، تربت اور گودار کا بھی دورہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن لاپتہ افراد کی بازیابی تک کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کو چار سے چھ ماہ میں حل کر لیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ بازیاب ہونے والے افراد کے خلاف کمیشن کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن صرف کاغذی کارروائی نہیں کرے گا بلکہ ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گا اور اگر کمیشن کی افادیت نہ رہی تو خود ہی الگ ہو جاؤں گا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے لیکن دعوے کرنے والی انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کی تنظیمیں مکمل کوائف پر مشتمل فہرست جمع نہیں کراتیں۔ انہوں نے کہا کہ تیس مئی دو ہزار بارہ تک پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداد چار سو ساٹھ تھی جن میں ستاون کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ستاون میں سے رواں ماہ کے دوران پندرہ افراد بازیاب ہوچکے ہیں اوراس وقت صوبے کے بیالیس افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بھی جلد بند ہوجائےگا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے خفیہ اداروں کے ذمہ داروں کو بلا کر ان سے برملا کہا ہے کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان اداروں کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے کمیشن کو نو سو پینتالیس افراد کی فہرست بھیجی تھی جن میں پینتالیس افراد کے کوائف بھی مکمل نہیں تھے۔ کمیشن کی جانب سے فہرست دوبارہ حکومت کو بھیج کر مکمل تفصیلات مانگی گئیں تاہم بلوچستان حکومت کی جانب سے اب تک نو ترتیب شدہ فہرست نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور کمیشن سے تعاون کیا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ بھی اس مسئلے کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے اجلاس میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی پر اعتراض کیا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ الزامات ہی ان اداروں پر لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کسی بھی طریقے سے کمیشن کو معلومات فراہم کرسکتے ہیں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچایا جائے گا۔

اسی بارے میں