’ٹیکس واپس نہ لیا تو پٹرول بھی نہیں ملے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں پٹرول پمپ مالکان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر دو روز میں سی این جی پر مجوزہ ٹیکس واپس لینے کا اعلان نہ کیا گیا تو پٹرول کی فروخت بھی روک دی جائے گی۔

اس بات کا اعلان لاہور میں آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں خواجہ عاطف اور چودھری نعیم نے سنیچر کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صوبہ پنجاب میں گزشتہ تین روز سے سی این جی سٹیشنز بند ہیں اور اب پٹرول پمپ مالکان بھی احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔

جمعہ کی رات سے پیڑول پمپس بھی تیل کی قلت کی وجہ سے بند ہونا شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پیڑولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو دو دن کی مہلت دی جا رہی ہے اور اگر حکومت نے ان کا مطالبہ نہ مانا تو بارہ جون سے پنجاب بھر میں پیڑول پمپ بند کردیے جائیں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ تنظیم کے عہدیدار خواجہ عاطف کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے پر ٹس سے مس نہیں ہورہی، اسی لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن وفاقی بجٹ میں مجوزہ ٹیکس کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت سی این جی پر عائد کیے جانے والے ٹیکس کی واپسی کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔

سنیچر کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں سی این جی اسٹیشن مالکان کی تنظیم نے ایک احتجاجی مظاہرہ جس میں اسٹیشن پر کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہوئے۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب کے لاہور میں کھلے رہ گئے پیڑول پمپوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

لاہور، ملتان، فیصل آباد، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں سی این جی ہفتہ وار بندش کی وجہ سے بند ہے۔ ان شہروں میں گزشتہ چھ دنوں سے سی این جی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

سی این جی سٹشینز مالکان کے احتجاج میں رکشہ مالکان کی تنظیم بھی شامل ہو گئی ہے اور گزشتہ روز سی این جی پر مجوزہ ٹیکس کی وصولی کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک رکشے کو آگ لگا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں