پنیٹا کےبیانات ’نامناسب‘، اپنےمنصوبے پر عمل پیرا ہیں: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیون پنیٹا نے حال ہی میں پہلے بھارت اور پھر افغانستان کے دورے کے دوران پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

پاکستان نے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ ’دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کی کوششوں کے سلسلے میں درپیش کئی پیچیدہ مسائل کو امریکی وزیر دفاع خواہ مخواہ ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کر رہے ہیں‘۔

امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے: تجزیہ کار

امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی بحفاظت واپسی چاہتا ہے: تجزیہ کار

بیان کے مطابق ان مسائل کو افغانستان اور علاقے میں مجموعی امن اور استحکام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے حال ہی میں پہلے بھارت اور پھر افغانستان کے دورے کے دوران پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے امریکہ کو بہت تشویش ہے اور جب تک پاکستان میں یہ پناہ گاہیں موجود ہیں اس وقت تک افغانستان میں امن کا قیام بہت مشکل ہے۔

لیون پنیٹا کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہر صورت میں کارروائی کرے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس قسم کے بیانات نامناسب ہیں اور خطے میں امن اور استحکام لانے کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو سکتے۔‘

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے ’پاکستان نے بار ہا کہا ہے کہ یہ کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال ہونے اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی اپنی سرزمین پر (شدت پسندوں) کی محفوظ پناہ گاہوں کی اجازت دے گا۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے: ’ہم اپنے قومی مفاد میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس بارے میں کسی کو بھی ہمارے عزم پر شبہ نہیں کرنا چاہیے۔‘

وزرات خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں بے مثال اور عزم غیرمتزلزل ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان انتہا پسندی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ اپنی ٹائم لائن یا نظام الااوقات پر عمل کرے گا۔

وزارتِ خارجہ سے قبل امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے بھی امریکی وزیرِ دفاع کے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیانات کو دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا تھا کہ ’امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر رکن کی جانب سے اس قسم کے عوامی بیانات کو پاکستان میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ان سے ایک ایسے وقت میں باہمی اختلافات میں کمی کے امکانات کم ہوئے ہیں جب بات چیت ایک نازک موڑ پر ہے۔‘

خیال رہے کہ لیون پنیٹا نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر زور دینے سے قبل دورۂ بھارت کے دوران کہا تھا کہ پاکستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے جاری رہیں گے اور یہ کہ امریکہ کے خلاف گیارہ ستمبر کے حملوں کی سازش تیار کرنے والی قیادت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے۔

پاکستان اکثر یہ شکایت کرتا ہے کہ ڈرون حملوں سے اس کی سالمیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ یہ امریکی سالمیت کا بھی سوال ہے اور ڈرون حملوں کا تعلق صرف امریکہ کے تحفظ سے ہی نہیں ہے بلکہ شدت پسند پاکستانیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

ادھر دوسری جانب امریکہ کے نائب وزیر دفاع پیٹر لیوائے پاکستانی حکام سے بات چیت کے لیے جمعہ کی شب کو اسلام آباد پہنچے ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے قائمقام ترجمان رابرٹ رینز نے بی بی سی بات کرتے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران محمکہ دفاع کے حکام کے ساتھ متخلف معاملات پر بات چیت کریں گے۔ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان ملاقاتوں کے دوران کون سے امور زیر بحث آئیں گے۔ پاکستان کی وزرات خارجہ کے ترجمان محمد معظم خان نے بھی یہ بتانے سے گریز کیا کہ امریکی نائب وزیر دفاع اور پاکستانی حکام کے درمیان کن معاملات پر بات چیت ہوگی۔

اسی بارے میں