سی این جی کی ہڑتال عارضی طور پر ختم

گاڑیوں کی قطار تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیڑول ڈیلر ایسوسی ایشن نے بھی سی این جی سٹیشن مالکان سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے بارہ جون سے پیڑول پمپ بند کرنے کی دھمکی دی تھی

پاکستان میں سی این جی سٹیشن مالکان نے وفاقی بجٹ میں سی این جی پر مجوزہ ٹیکس کے خلاف ہڑتال عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی طرف سے وزارت پیٹرولیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ تنظیم کے فیصلے کے بعد پنجاب میں رات گئے سی این جی سٹیشن کھل گئے جبکہ دیگر تین صوبے پہلے ہی ہڑتال ختم کرچکے ہیں۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ نے بتایا کہ وزیرِ پیٹرولیم کی یقین دہانی کے باعث ان کی تنظیم نے تین دنوں کے لیے ہڑتال مؤخر کردی ہے۔

سی این جی سٹیشن مالکان کی ہڑتال پانچ روز سے جاری تھی جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا اور لوگ اپنی گاڑیوں کے لیے پیڑول استعمال کر رہے تھے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں ہڑتال ختم ہونے کے بعد سی این جی سٹیشنوں پر گاڑیوں کے لمبی قطاریں لگ گئیں۔

غیاث پراچہ نے امید ظاہر کی کہ تین دنوں کے اندر وزیر پیڑولیم نے جو وعدہ کیے ان کو پورا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یقین دہانی پر عمل نہ کیا تو دوبارہ ہڑتال کی جائے گی۔

تنظیم کے سربراہ نے سی این جی سٹیشن بند رکھنے پر صارفین سے معافی مانگی اور وضاحت کی کہ ہڑتال اس لیے کی گئی تاکہ سی این جی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

ہڑتال کے باعث لاہور کے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوئے جنہیں ہفتہ وار بندش اور ہڑتال کی وجہ سے گزشتہ سات دنوں سے سی این جی نہیں ملی۔

اس پہلے پیڑول ڈیلر ایسوسی ایشن نے بھی سی این جی سٹیشن مالکان سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے بارہ جون سے پیڑول پمپ بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اسی بارے میں