’گینگ ریپ‘ کے ملزمان کی گرفتاری

فورٹ منرو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلعی انتظامیہ کے قبائلی عمائدین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ملزمان نے گرفتاری دی

جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں پانچ لڑکیوں سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے ملزمان بارڈر ملٹری پولیس کے تین اہلکاروں نے اتوار کی رات گرفتاری دے دی ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے ضلعی رابطہ آفیسر افتخار علی سہور نے ملزم اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ ملزم ان کی تحویل میں ہیں۔ تینوں ملزم اہلکار واقعہ کے بعد سے مفرور تھے تاہم ضلعی انتظامیہ کے قبائلی عمائدین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں انہوں نے گرفتاری دی۔

ضلعی رابطہ افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ تینوں ملزمان کو پیر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ملزموں کا ریمانڈ حاصل کر کے باضابطہ تفتیش شروع ہوجائے گی۔

اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے تفریحی مقام فورٹ منرو میں جمعرات کو پیش آیا تھا اور پولیس نے لڑکیوں کے بیان کی روشنی میں بارڈر ملٹری پولیس کے تین اہلکاروں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ضلعی رابطہ آفیسر افتخار علی سہور نے بتایا کہ مبینہ طور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور انہیں ان کے گھر والوں کی تحویل میں دے دیا جائےگا۔

افتخار علی سہور نے یہ بتایا کہ لڑکیوں کا طبی معائنہ ہوگیا ہے اور طبی معائنہ کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور بھجوادیے گئے ہیں۔

مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکاروں نے انہیں چھان بین کے بہانے روکا جس کے بعد وہ انہیں تھانے لے گئے جہاں تین اہلکاروں سمیت پانچ افراد نے ان اجتماعی زیادتی کی۔

ضلعی رابطہ آفیسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش کے لیے طارق بسرا کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضلعی رابطہ آفیسر افتخار سہور نے بتایا کہ لڑکیوں کی ابھی تک شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

ان کے بقول تفتیش اور طبی معائنے کے دوران لڑکیوں نے جو تفیصلات بتائی ہیں ان میں تضاد ہے اس لیے تفتیش کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ان لڑکیوں کی شناخت تک پہنچنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں