’ارسلان کے بارے میں مواد دیکھ کی دکھ ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن نے کہا کہ نہ تو ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی انہوں نے ٹوئٹ کیا

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کے بارے میں جو مواد کاروباری شخصیت ملک ریاض نے دکھایا تھا اسے دیکھ کر انہیں دکھ ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس معاملے کے ذمہ دار نہیں ہیں اور ان کی طرف کوئی انگلی نہیں اٹھتی۔

چیف جسٹس کے صاحبزادے، جنرل کےداماد

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’ارسلان افتخار نے جو کچھ بھی کیا اس پر دکھ ہے اور یہ ارسلان افتخار کا اپنا فعل نظر آتا ہے۔‘

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اب یہ معاملہ عدالت کے روبرو ہے اور عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ اگر کوئی سازش ہے تو یہ سازش کس کی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک ریاض سے جو مواد دیکھا اسی مواد کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے اس لیے یہ اس مواد پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ایسی شہادتیں ہیں کہ مواد معتبر ہے جبکہ دوسری جانب ارسلان افتخار نے مواد کو غلط قرار دیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کی اس معاملے میں ملوث نظر نہیں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ میڈیا نے سنی سنائی بات کو بڑھا چڑھا دیا ہے اور اس بات کو اتنا بڑا بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ بیٹے کے بدلے میں بیٹے کا تسلسل ہے۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں چیف جسٹس اس کے معاملے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے اس بات کی بھی تردید کی کہ برطانوی صحافی کریسٹینا لیمب سے ان کا رابطہ تھا اور انہوں نے واضح کیا کہ کریسٹینا لیمب سے ان کا آخری رابطہ سنہ دو ہزار سات میں ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی صحافی نے اپنی کتاب میں ان کے خلاف سخت جملے لکھے تھے جن کی بہت تشہیر ہوئی اور اس کے بات کئی برسں ان کی کریسٹینا لیمب سے ملاقات نہیں ہوئی۔

اعتزاز احسن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی حد تک یہ کوشش کی کہ ایسی سنسنی خیز خبریں شائع نہ ہوں جن سے عدلیہ اور چیف جسٹس کا وقار مجروح ہو لیکن بقول ان کے چند ایسے دوست جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں انہوں نے بات کو اتنا بڑھا دیا اور اب ملک ریاض کو سپریم کورٹ میں آنا پڑے گا۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر نے اس بات کی تردید کی کہ وہ ارسلان افتخار کے بارے میں مواد دیکھنے کے بعد روئے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ زندگی میں اپنی والدہ کے انتقال اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر روئے تھے۔

وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ چودہ جون سے سپریم کورٹ سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع کر رہا ہے اور وہ چیف جسٹس پاکستان کی بینچ میں شمولیت پر کوئی اعتراض کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ملک ریاض نے انہیں اپنے وکیل مقرر کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے تو بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’دونوں طرف میرے موکل ہیں میرے لیے مناسب نہیں ہے میں کسی ایک فریق کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں۔‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ نہ تو ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی انہوں نے ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر پر اگر ان کا پیغام چلتا ہے تو وہ جعلی ہے۔

یاد رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعتزاز احسن کے نام سے ایک ٹویٹ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ان کو ملک ریاض نے مواد نہیں دکھایا تھا۔

اسی بارے میں