’ملک ریاض عدالت میں بیان دیں گے‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس جواد ایس خواجہ کر رہے ہیں

کاروباری شخصیت ملک ریاض حسین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے ارسلان افتخار پر لگے الزامات کے بارے میں شروع کی گئی کارروائی کے سلسلے میں اعلیٰ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

ارسلان افتخار پر الزام ہے کہ انہوں ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا تھا۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ملک ریاض اپنے خصوصی جہاز پر اسلام کے ہوائی اڈے پر اترے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے زیادہ بات نہیں بس صرف اتنا کہا کہ وہ منگل کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عدالت نے انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے منع کیا ہے اور ’میں صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ میں کل اپنا بیان ریکارڈ کرواؤں گا۔‘

ایجنسی نے کہا کہ اس سے قبل ملک ریاض کے وکیل زاہد حسین بخاری نے پیر کو ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے مؤکل پر مقدمات درج کرنے کی درخواستوں سے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا اور وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے ان پر دس مقدمات ہی کیوں نہ درج کر دیے گئے۔‘

سپریم کورٹ نے ان خبروں کے بعد اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کا فیصلے کیا تھا کہ جن میں ارسلان افتخار پر کاروباری شخصیت ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

جب نوٹس جاری کیا گیا اس وقت چیف جسٹس خود بنچ کی سربراہی کر رہے تھے لیکن بعد میں وہ علیحدہ ہو گئے اور اب سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس جواد ایس خواجہ کر رہے ہیں۔

اس ازخود نوٹس کے بارے میں گزشتہ منگل کو رات گئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

اسی بارے میں