متنازع میمو: درخواستوں کی سماعت منگل سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک نو رکنی بینچ تشکیل دیاگیا ہے جو بارہ جون سے ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

اس متنازع میمو سے متعلق درخواستیں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف اور دیگر عہدیداروں نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھیں۔

متنازع میمو: آئینی درخواستیں قابل سماعت قرار

اس سے پہلے اس میمو کی حقیقت سے متعلق قائم کیےگئے کمیشن نے اپنی حمتی رپورٹ پیر کے روز عدالت میں پیش کی۔

یہ رپورٹ کمیشن کے سیکرٹری راجہ جواد عباس نے عدالت میں جمع کروائی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں بننے والے اس تین رکنی کمیشن نے اپنی اس رپورٹ میں کمیشن کی تمام تر کارروائی اور دیگر دستاویزات کو لف کیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس متنازع میمو کے اہم کردار منصور اعجاز کا بیان لندن میں جا کر ریکارڈ کیا گیا اور ایسی ہی سہولت امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل نے بھی کمیشن سے مانگی تھی تاہم کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے سپریم کورٹ میں یہ بیان حلفی جمع کروایا تھا کہ وہ چار دن کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہو جائیں گے جس کے بعد عدالت نے اُنہیں باہر جانے کی اجازت دے دی تھی۔

بیرون ملک روانہ ہونے کے بعد کمیشن نے متعدد بار حسین حقانی کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ منگل سے ان درخواستوں کی سماعت شروع کرے گا

حسین حقانی کے وکیل نے کمیشن کی آخری چند روز کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس سے پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا کی طرف سے جمع کروائےگئے بیان حلفی میں میمو کی حقیقت جاننے کے لیے سپریم کورٹ سے تحققیات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

متنازع میمو کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گُزشتہ برس القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد یہ متنازع میمو منظر عام پر آیا تھا جس میں اُس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی طرف سے امریکی افواج کے سربراہ سے پاکستان میں فوج کی طرف سے ممکنہ طور پر اقتدار پر قبضے سے متعلق مدد مانگی گئی تھی۔

اسی بارے میں