سرکریک، سیاچن کے معاملے پر پاک بھارت مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری دفاع کے راولپنڈی میں سرکریک اور سیاچن کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔

ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کریں گی جبکہ بھارتی سیکریٹری دفاع ششی کانت شرما ان مذاکرات میں بھارت کی نمائندگی کرنے کے لیے اپنے وفد کے ہمراہ اتوار کو اسلام آباد پہنچے۔

دو روزہ مذاکرات کا پہلا دور پیر کو ہوا تھا۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اتوار کو کہا کہ ان مذاکرات میں کسی اہم پیش رفت کی امید نہ رکھی جائے۔

بہترین دوست اور بدترین دشمن ہی آتا ہے

’کسی قسم کے ڈرامائی اعلان یا فیصلے کی توقع ان مذاکرات سے نہ رکھی جائے کیونکہ یہ دونوں معاملات بہت حساس ہیں اور قومی سلامتی کے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاچن کے معاملے پر بھارت کی واضح پالیسی ہے اور سیکریٹری دفاع پاکستان کو بھارت کی پوزیشن واضح کریں گے۔

یاد رہے کہ سیاچن کے سیکٹر گیاری میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستان کے 139 فوجی اور سویلین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کو سیاچن سمیت تمام مسائل عوامی فلاح و بہبود کے لیے حل کرنے چاہیں اور دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پرامن رہیں۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاچن پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایک مشکل ترین محاذ جنگ ہے اور اس پر دونوں ممالک کے بیش بہا اخراجات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاچن کا مسئلہ حل ہوگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ کیسے حل کرنا ہے اس بارے میں دونوں ممالک بات چیت کریں۔ ایک وقت پر ہم اس معاملے کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن حل نہیں ہوا۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں