مسلم لیگ نون، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ایوان صدر کے سامنے دھرنا دیا تھا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے پیر کی شام کو پارلیمان سے ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس تک جلوس نکالا جو بعد میں چھوٹے جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔

جلوس کے زیادہ تر شرکاء اراکین پارلیمان تھے جبکہ کچھ ان کےملازمین اور کارکن بھی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر والے پرچم لیے، شریک ہوئے۔ جلوس کے شرکاء کی کم تعداد کی وجہ ’ریڈ زون‘ میں عام آدمیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔

جلوس کے شرکاء کو ایوان صدر جانے والی سڑک پر کابینہ ڈویژن کو جانے والے دروازے کے پاس رکاوٹ کھڑی کرکے پولیس نے روکنےکی کوشش کی لیکن وہ رکاوٹ عبور کرکے آگے بڑھے۔ لیکن پولیس نے ایوان صدر سے قریب ہی سڑک پر نصف آہنی دروازہ بند کر کے جلوس کو روک دیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمان کی تعداد نوے سے زائد ہے لیکن جلوس میں بمشکل نصف نے شرکت کی۔

اعلان تو دھرنا دینے کا کیا گیا لیکن شاید سڑک گرم ہونے کی وجہ سے بیشتر اراکین نے بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔

جلوس کے شرکاء نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور انہوں نے صدر آصف علی زرادری، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف نعرے لگائے۔’ہائے پیپلز پارٹی۔۔۔قوم بھوکی مار دی۔۔۔ کرپشن ختم کرو۔۔۔ قوم کی جان چھوڑ دو سمیت کئی نعرے لگائے۔‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں راجہ ظفرالحق اور چوہدری نثار علی خان نے اس موقع پر مختصر خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم دونوں سزا یافتہ ہیں اور انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

انہوں نے ملک میں توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی کرپشن پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے قوم کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ایوان صدر کے سامنے دھرنا دیا تھا اور ملک بھر میں حکومت ہٹاؤ تحریک چلانےکا اعلان کیا تھا۔ لیکن کچھ شہروں میں جلسے جلوسوں کے بعد سلسلہ رک گیا تھا۔

آج کل مسلم لیگ (ن) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے کیس میں ملنے والی تیس سیکنڈ کی علامتی سزا کے بعد سراپا احتجاج ہے اور ان کا موقف ہے کہ وزیراعظم نااہل ہو چکے ہیں۔

قانونی ماہرین وزیراعظم کی نا اہلی کے سوال پر منقسم ہیں اور عدالتی فیصلہ بھی واضح نہیں۔

ادھر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بجٹ پر بحث جاری رہی۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے ایسا لگا کہ یکطرفہ کارروائی چل رہی ہے۔ جہاں حکومت کے حامی اراکین کی دلچسپی بھی کم نظر آئی۔

اسی بارے میں