امریکی مذاکراتی ٹیم کی پاکستان سے واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی محکمۂ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو پاکستان کے ذریعے رسد کی بحالی کے لیے پاکستانی حکام سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کو اسلام آباد سے واپس بلا لیا گیا ہے اور اگر حالات میں کوئی تبدیلی آئی تو ٹیم کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

برظانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان جان لٹل کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ امریکہ کا فیصلہ ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس بارے میں اپنی خبر میں کہا تھا کہ مذاکرات کے ناکام ہوجانے کے بعد امریکہ نے اسلام آباد سے اپنے مذاکرات کاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پینٹاگن نےاس مختصر سے بیان میں مزید کہا کہ مذاکراتی ٹیم میں چند ارکان اس اختتام ہفتے اسلام آباد سے واپس بلا لیے گئے تھے جبکہ باقی ارکان جلد ہی واپسی کا سفر اختیار کریں گے۔

بی بی سی کی واشنگٹن میں نامہ نگار کم گھتاس نے امریکی وزارت دفاع پینٹاگن کے ترجمان جارج لٹل کے حوالے سے بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کو تھوڑے عرصے کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔

جارج لٹل نے کہا کہ اگر صورت حال میں کوئی بہتری آئی تو مذاکرات کاروں کو فوری طور پر واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے پاک امریکہ بات چیت جاری ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کوئی ڈیڈ لاک آیا ہے یا یہ ناکام ہو گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد معظم خان نے بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتےہوئے کہا کہ’ وہ لوگ( امریکی اہلکار) ٹیکنیکل بات چیت میں حصہ لے رہے تھے اور جن کی اب ضرورت نہیں رہی اس لیے ان کو واپس بلایا جا رہا ہے۔‘

’ ظاہر ہے کہ آپ نے کسی ایک خاص پہلو پر اپنی رائے دے دی تو پھر ضرورت نہیں رہتی ہے۔‘

نیٹو سپلائی پر پاک امریکہ مذاکرات کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’ جہاں تک انہیں معلوم ہے دونوں ممالک میں مذاکرت جاری ہیں اور اس میں ٹیکنیکل نوعیت کے کچھ لوگ تھے ان کو واپس بلایا جا رہا ہے، مذاکرات ابھی کئی سطحوں پر جاری ہیں۔‘

واپس بلائے جانے والے امریکی اہلکاروں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انہیں اس ضمن میں معلوم نہیں ہے کہ اس ٹیم میں کون لوگ شامل تھے اور آیا ان میں کوئی اعلیٰ اہلکار بھی شامل تھے۔

افغانستان میں موجود نیٹو سپلائی کو بحال کرنے پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سات ہفتوں قبل شروع ہوئے تھے لیکن پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے اور دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کی فضا کا اثر بھی ان مذاکرات پر پڑتا رہا۔

پاکستان نیٹو افواج کو رسد لے جانے والے ٹرکوں سے پانچ ہزار فی ٹرک کے حساب سے کرائے راہداری دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار ٹرک ہر مہینے پاکستان کے راستے افغانستان جا رہے تھے اور توقع یہ ہے کہ نیٹو فوج کا افغانستان سے انخلاء شروع ہونے کے بعد یہ تعداد کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔

حال ہی میں امریکہ نے تین وسطی ایشیائی ریاستوں سے ایک معاہدہ طے کیا تاکہ نیٹو افواج کے ساز و سامان کو شمالی راستے کے ذریعے افغانستان سے واپس لیے جایا جائے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات سے پاکستان پر دباؤ بڑھے گا اور وہ امریکہ سے معاہدہ طے کرنے پر تیار ہو جائے گا۔ جبکہ پاکستانی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ شمالی راستے سے افواج اور بھاری جنگی ساز و سامان امریکہ اور نیٹو ممالک کو بہت مہنگا پڑے گا اور آخر کا وہ پاکستان کے ساتھ اسی رقم پر سودا کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔