’میمو ایک حقیقت اور خالق حسین حقانی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے جانے والے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میمورینڈم حقیقی تھا اور اس کے خالق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی تھے۔

میمو کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کی تمام تر وفاداریاں پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیئیں تھیں لیکن وہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستان کے سفیر ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی اور متنازع میمو کیس کی سماعت کرنے والے نو رکنی بینچ نے منگل کو اس کا جائزہ لیا ہے۔

میمو رپورٹ: ٹوئٹر پر بحث چھڑ گئی

’کمیشن جانبدار تھا، یہی رپورٹ دینی تھی‘

متنازع میمو مقدمہ: جو جوابات داخل کیے گئے

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ میمو کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے میمو کی حقیقت کو جاننے کے لیے کمیشن تشکیل دیا کہ یہ میمو کیوں لکھا گیا اور اس کے پیچھے کون سے مقاصد کارفرما تھے اور پھر اس میمو کو امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو کیوں پہنچایا گیا۔

کمیشن نے رپورٹ میں کہا ہے ’یہ بات ثابت ہوگئی کہ میمو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور حسین حقانی اس کے خالق ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق حسین حقانی نے امریکی مدد چاہی اور وہ امریکیوں کے لیے خود کو ناگزیر ثابت کرنے کے لیےجگہ بنانا چاہتے تھے۔ ’حسین حقانی اس حقیقت کو بھول گئے کہ وہ ایک پاکستانی شہری ہیں اور وہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ہیں اس لیے اُن کی تمام تر وفاداریاں پاکستان کے لیے ہونا چاہیے تھیں‘۔

کمیشن نے رپورٹ میں کہا ہے کہ حسین حقانی نے ایک مجوزہ ’قومی سلامتی ٹیم‘ کے حصہ کے طور پر ایک غیر ملکی حکومت کو اپنی خدمات پیش کیں اور ان ’عظیم خدشات‘ کا اظہار کیا کہ ’پاکستان کے جوہری اثاثے اب ایک واضح ہدف ہیں‘ اور اس طرح یہ کہتے ہوئے کہ آئی ایس آئی کے ’طالبان سے تعلقات ہیں‘، ’پاکستان کے جوہری اثاثوں کو ایک زیادہ قابلِ تصدیق اور شفاف حکومت‘ کے تحت لانے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حسین حقانی نے ’آئی ایس آئی کے سیکشن ایس کے خاتمے‘ اور ’ان کے مفادات کے خلاف صف آراء قوتوں کو کمزور کرنے‘ کی پیشکش کر کے پاکستانی سیاست میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی اور یہ پاکستان سے غداری کے اقدامات تھے جو کہ آئین پاکستان سے انحراف تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میمو کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ سول حکومت امریکہ کی دوست ہے لیکن ضروری ہے کہ فوج اور خفیہ اداروں پر قابو پانے کے لیے اسے مضبوط کیا جا سکے اور ’اس مقصد کے لیے حسین حقانی کی قیادت میں ایک سول قومی سلامتی سکیورٹی ٹیم کی تشکیل کے لیے امریکہ کی مدد درکار تھی‘۔

کمیشن کے مطابق اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، دہشت گردوں سے لڑنا چاہیے، جوہری پھیلاؤ کی مخالفت کرنی چاہیے، سویلین (نہ کہ فوج) خارجہ پالیسی کا تعین کرے اور ریاست کی کشتی سویلین ہاتھوں سے چلنی چاہیے۔

’لیکن جو قابل قبول نہیں وہ یہ ہے کہ پاکستانی سفیر غیرملکی حکومت سے ہمارے معاملات میں مداخلت اور اسے چلانے کے لیے کہے‘۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے آخر میں مزید کہا کہ حسین حقانی کو کمیشن کے مشاہدات کا جواب دینا ہوگا۔ انہیں پاکستان سے باہر جانے کی اجازت اس شرط پر دی گئی تھی کہ جب بھی عدالت کو ضرورت ہوگی وہ چار روز کے نوٹس پر حاضر ہوں گے لہٰذا انہیں آئندہ سماعت میں موجود ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ مسٹر حقانی نے پاکستان میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور امریکہ میں کام کرتے رہے جہاں انہوں نے بظاہر زندگی بنائی ہے‘۔ سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں کوئی اثاثے نہیں بنائے، نہ کوئی پیسہ رکھا ہے (ایک چھوٹی رقم بچائی ہے) ایک پاکستانی بینک میں۔

’اس کے باوجود کہ ان کے پاکستان کے ساتھ کوئی واضح رشتے نہیں تھے انہیں انتہائی حساس عہدے پر یعنی امریکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا اور تنخواہ اور دیگر مراعات کے علاوہ بیس لاکھ ڈالر کی سالانہ رقم بھی دی گئی‘۔

چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے میمو کمیشن رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی کمانڈر مائک مولن کو یہ مراسلہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے بھیجا اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا انہوں نے امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی کے کہنے پر کیا۔

واضح رہے کہ سابق سفیر حسین حقانی پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں۔ اور سپریم کورٹ نے ان کی اہلیہ فرح ناز اصفحانی کی گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کی رکنیت دوہری شہریت رکھنے پر معطل کردی تھی جس کے بعد وہ بھی امریکہ چلی گئیں۔

متنازع میمو کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف نے دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اٹھائیس نومبر کو یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی جسں میں وفاق کے علاوہ صدر آصف علی زرداری، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹرسروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، سیکرٹری خارجہ، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس آئینی درخواست میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے اس اخباری مضمون کا ذکر کیاگیا ہے جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ+ پاکستان کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد خفیہ ذرائع سے اس وقت کے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین عہدیدار کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا۔ اس مراسلے میں پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ممکنہ فوجی اقدام کے خطرے کے خلاف امریکی حکومت سے مدد طلب کی گئی تھی۔

اسی بارے میں