ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقاتوں میں سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج بھی شریک تھے:ملک ریاض

سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار نے ملک ریاض کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے رات کے اندھیروں میں ملاقاتوں سمیت دیگر الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ارسلان افتخار کو مبینہ طور پر پہنچائے گئے مالی فوائد سے ان کے والد، افتخار محمد چوہدری لا علم تھے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے منگل کو چیف جسٹس کی ذات پر ملک ریاض کے عدالت میں بیان اور اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا۔

ڈاکٹر فقیر نے ملک ریاض کے اس الزام پر کہ وہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ملاقات کرتے رہے ہیں، کہا کہ چیف جسٹس اپنی معزولی کے دور میں دو یا تین مرتبہ ملک ریاض سے ملے ہیں۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس ان سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ڈاکٹر فقیر حسین نے اس ضمن میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں ججوں کی بحالی کے معاملے میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تناظر میں ہوئی تھیں۔

رجسٹرار کا کہنا ہے کہ ملک ریاض ان ملاقاتوں کے لیے چیف جسٹس کے گھر آئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ چیف جسٹس آصف علی زرداری سے ملاقات کریں تاہم انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

ملک ریاض کے کاروباری شراکت دار احمد خلیل کے گھر پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقاتوں کے بارے میں دعوے پر ڈاکٹر فقیر حسین نے کہا کہ ممکن ہے کہ لاہور میں کسی سماجی تقریب میں دونوں شخصیات ملی ہوں اور وزیراعظم سے چیف جسٹس کی ملاقاتیں تو ریکارڈ پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹسں ملک ریاض کی طرف سے ارسلان چوہدری کو پہنچائے گئے مبینہ مالی فوائد کے بارے میں قطعی طور پر لا علم تھے

قبل ازیں سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران جمع کروائے گئے بیان میں ملک ریاض نے الزام لگایا کہ ارسلان افتخار نے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران مبینہ طور پر ان سے چونتیس کروڑ پچیس لاکھ روپے کی رقم زبردستی ہتھیا لی۔

ملک ریاض کی جانب سے جو بیان جمع کروایا گیا ہے اُس میں ڈاکٹر ارسلان کے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں برطانیہ اور مونٹی کارلو کے دورے پر اُٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔

ملک ریاض کے بقول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے کو مختلف اوقات میں تیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی لیکن یہ رقم اُنہوں نے نہیں بلکہ اُن کے داماد نے دی۔

عدالت نے اُن کے وکیل سے یہ پوچھا کہ جب رقم سلمان نے ادا کی ہے تو ڈاکٹر ارسلان اُنہیں کیسے بلیک میل کر رہے ہیں جس کا وہ جواب نہ دے سکے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ملک ریاض کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ انصاف مانگنے نہیں بلکہ خریدنے آئے ہیں۔

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش ، قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے، پولیس یا انٹی کرپشن اتھارٹی سے کروائی جائے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر ارسلان کے وکیل سردار اسحاق نے ان تحقیقاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو نیب میں بھجوا دیا جائے۔

ڈاکٹر ارسلان اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے دوران ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

اس انتہائی اہمیت اختیار کر جانے والے مقدمے کی کی سماعت جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کر دی گئی ہے جب توقع ہے کہ عدالت ملک ریاض کے وکیل کی درخواست پر الزامات کی تحقیقات خود کرنے یا کسی تفتیشی ادارے کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرے گی۔

سماعت کے بعد منگل کی شام بحریہ ہاؤسنگ سکیموں کے ارب پتی مالک ملک ریاض حسین نے پریس کانفرنس میں ایک ہاتھ میں قرآن مجید اٹھائے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سامنے تین سوال رکھے تھے جن میں چیف جسٹس سے ان کی اپنی ملاقاتوں اور ان میں ارسلان افتخار کی موجودگی، چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقاتوں اور انہیں ارسلان افتخار کے مالی فوائد اٹھانے کے معاملے کا علم ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

ملک ریاض نے کہا تھا کہ ان کے ’ایک مشترکہ دوست نے چھ ماہ قبل چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ کہا کہ آپ کا بیٹا یہ کام کر رہا ہے تو اسے کہا گیا کہ ملک ریاض بلیک میلر ہے‘۔

ان کے مطابق چیف جسٹس کو دستاویزات دکھانے کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے یہ کاغذات دیکھنے سے بھی انکار کر دیا اور وہ سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ملک ریاض نے کہا کہ انہوں نے ارسلان افتخار کو رشوت نہیں دی بلکہ وہ خود بلیک میل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں انصاف خریدنے نہیں بلکہ انصاف کے حصول کے لیے گئے تھے۔

اسی بارے میں