کراچی:تاجر کی ہلاکت پر تاجروں کی ہڑتال

فائل فوٹو، لیاری میں آپریشن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ اور وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کراچی میں تاجروں کی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

منگل کو شہر میں ایک تاجر کی ہلاکت کے بعد چھوٹے تاجروں کی تنظیم آل کراچی تاجر اتحاد نے بھتہ خوری کے خلاف کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ اور ٹرانسپورٹ اتحاد نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے، جس نے ہڑتال کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شہر میں دفاتر اور تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں اور بازاروں میں دکانوں بند ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سڑکوں اور شاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ لوگ ٹیکسی اور رکشہ میں سفر کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کو کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی کے بھائی ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلاکت کا واقعہ منگل کی دوپہر کو شیر شاہ مارکیٹ میں پیش آیا۔

مقتول کرار علی کی نمازے جنازہ فیڈڑل بی ایریا میں ادا کی گئی، جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جس کے بعد مقامی قبرستان میں کرار علی کی تدفین کی گئی۔

چھوٹے تاجروں نے صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بھتہ خوری کی کارروایوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے اور تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

شہر میں ہڑتال سے قبل منگل کی شب تمام مارکیٹیں اور دکانیں وقت سے پہلے ویران ہو گئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہے۔ ہڑتال کے باعث کراچی تعلیمی بورڈ نے اپنے مجوزہ امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔

اسی بارے میں