’حکومت ارسلان، ریاض کے خلاف کارروائی کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان، بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض اور اُن کے داماد سلمان احمد کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے اپنے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر ارسلان کو چونتیس کروڑ روپے دیے ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس از خودنوٹس سے متعلق فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں رشوت دینے، بھتہ خوری اور جعلسازی کی دفعات کے مطابق کارروائی کرکے سزا دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے صحیح بخاری حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کوئی شخص کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو یا کسی بڑی شخصیت کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اُس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

عدالت نے ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام یا اس معاملے کو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کو بھیجنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملک ریاض نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ اُنہیں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز پر مکمل اعتماد ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ملک ریاض کے بیان سے یہ حصہ بھی پڑھا کہ اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود اُنہیں کوئی ریلیف نہیں ملا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ملک ریاض کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات پر بھی سوال اُٹھائے ہیں اور کہا کہ ڈاکٹر ارسلان کے غیر ملکی دوروں پر جو ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے اُس کے بارے میں دستاویزات پیش کی ہیں۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اُنہیں جو بتیس کروڑ روپے سے زائد رقم نقدی کی صورت میں دی گئی ہے اُس سے متعلق دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ملک ریاض نے اپنے داماد سلمان احمد کا بیان حلفی بھی نہیں دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے حقائق جاننے کی کوشش نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ میڈیا کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھ کر پروگرام کرنے چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ میڈیا ایسے لوگوں کے ہاتھوں استمال نہ ہو جو قانون کا احترام نہیں کرتے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یو ٹیوب پر شاہین صہبائی کا انٹرویو ڈالنے کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شاہین صہبائی نے تسلیم کیا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف سازش کے لیے اُن کے بیٹے کو استعمال کیا گیا۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اس معاملے کو نیب یا وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو بھجوائیں گے تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملے کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک ریاض کو توہین عدالت کے مقدمے میں دیے گئے نوٹس پر اُنہیں وکیل کرنے کے لیے سات روز کی مہلت دی ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ وکیل تلاش کر رہے ہیں جو اُن کا مقدمہ لڑ سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی وکیل اُن کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں ہے۔ ماہر قانون اعتزاز احسن نے ملک ریاض کا مقدمہ لڑنے سے انکار کردیا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت اکیس جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں