وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور

پاکستان کی حکومت نے اپوزیشن کی سخت نعرہ بازی اور احتجاج کے دوران یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے انتیس سو ساٹھ ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرالیا ہے۔

وفاقی حکومت نے تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں منظور کردہ حد سے زائد اخراجات کی بھی منظوری حاصل کی ہے۔ اضافی اخراجات پانچ کھرب چراسی ارب اور بیالیس کروڑ روپے کے ہیں۔

اکثریت رائے کی بنا پر منظور ہونے والا بجٹ گیارہ سو پانچ ارب روپے کے خسارے کا بجٹ ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ خسارہ قرضوں اور امداد سے پورا کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے بظاہر تو بجٹ سیشن میں نعرہ بازی اور ہنگامہ جاری رکھا لیکن بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ انہوں نے کوئی کٹوتی کی تحریک بھی پیش نہیں کی لیکن محدود پیمانے پر بجٹ پر بحث میں حصہ ضرور لیا۔

اپوزیشن کی دوسری جماعت جمیعت علماء اسلام (ف) نے اپنی کٹوتی کی تحاریک واپس لے کر حکومت کو جلد بجٹ منظور کرنے میں مدد کی۔

ماضی میں اکثر طور پر بارہ سے پندرہ روز تک بجٹ پر بحث ہوتی تھی اور بیس سے پچیس روز میں بجٹ کی منظوری ممکن ہوتی تھی۔ لیکن اس بار آٹھ روز بحث کے بعد ایک ہی دن میں بجٹ منظور کرایا گیا۔

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے جاری اور ترقیاتی اخراجات اور اضافی مطالبات زر کی فہرست طویل تھی اور اس کی منظوری میں پانچ وزراء نے حصہ لیا۔

اصولی طور پر تو تمام مطالبات زر منظوری کے لیے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو پیش کرنے تھے لیکن وہ تھک گئے تو کبھی نوید قمر تو کبھی مخدوم شہاب الدین، کبھی ریاض پیرزادہ تو کبھی خواجہ شیراز نے مطالبات زر منظوری کے لیے پیش کیے۔

مسلم لیگ (ن) نے صبح گیارہ بجے بلائے گئے اجلاس جو دوپہر ساڑھے تین بجے تک چلتا رہا، اس میں قسطوں میں اپنا احتجاج کیا۔ وہ ایوان میں آتے بجٹ کے کاغذات پھاڑتے، نعرے لگاتے اور جب تھک جاتے تو لابی میں چلے جاتے۔

اس دوران انہوں نے تین بار کورم کی نشاندہی کی لیکن کورم پورا رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین تازہ دم ہوکر دوبارہ ایوان میں آتے اور پھر نعرہ بازی کرتے۔ ایک موقع پر جب وہ نعرے لگا لگا کر تھک گئے تو دعا مانگی کہ ’یا اللہ حکمرانوں سے نجات دلاؤ‘۔

تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال میں حد سے زیادہ اخراجات قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی، دفاع، وزارت اطلاعات، خارجہ، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور دیگر وزارتوں اور اداروں نے کیے۔ دفاع کے مد میں پونے پندرہ ارب روپے، خارجہ نے سوا پینتیس کروڑ اور وزرات اطلاعات پونے دو ارب ورپے بجٹ سے زائد خرچ کیے ہیں۔

نئے سال کے بجٹ کی ایک اچھی بات تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس کے مد میں رلیف دینا ہے۔ ماضی میں ہمیشہ انکم ٹیکس بڑھائی جاتی رہی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔

اسی بارے میں