’متنازع انٹرویو کی عدالتی تحقیقات ہوں گی‘

تصویر یوٹیوب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک ریاض کے ٹی وی انٹرویو کا عکس: تصویر(یوٹیوب)

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی پر دیے گئے انٹرویو میں وقفے کے دوران اُن کی پروگرام کے میزبانوں سے گفتگو کی ویڈیو سے متعلق تحقیقات کے لیےدو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جواد ایس خواجہ اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ جسٹس خلجی عارف حسین بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ دو رکنی کمیٹی اس واقعہ کی تحقتقات مکمل کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ عدالت نے پیمرا کے چیئرمین کو اس ویڈیو سے متعلق تفصیلی رپورٹ جلد از جلد سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے دو روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل ’دنیا ٹی وی‘ پر بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے انٹرویو کو طے شدہ (پلانٹڈ) قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے فل کورٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس کے سامنے پیش کیے گئے نوٹ میں کہی۔

اس نوٹ میں اُنہوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ انٹرویو عدلیہ کے خلاف ایک طے شدہ سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ججز کا فُل کورٹ ریفرنس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں ایجنڈے کے مطابق انتظامی امور اور زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے معاملات زیر بحث آئے۔

اسی اجلاس میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایک نوٹ چیف جسٹس کو پیش کیا جس میں تیرہ جون کو بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کا نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وقفے کے دوران ملک ریاض اور اینکرز مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان ہونے والی گفتگو کے سوشل میڈیا پر آنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی اور اس میں عدلیہ اور ججز کا واضح مذاق اُّڑایا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز ہونا تھا۔ اس اجلاس کے دوران اس پروگرام کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔

اس اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے چیئرمین عبدالجبار کو بھی طلب کیا گیا اور اُن سے استفسار کیا کہ جو پروگرام عدلیہ یا پارلیمنٹ کے مخالف ہوتے ہیں اُس پر اُن کا ادارہ کیا کارروائی کرتا ہے۔

پیمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُنہیں نوٹس جاری کرتے ہیں اور وضاحت طلب کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وضاحت اگر تسلی بخش نہ ہو تو اُن کے لائسنس معطل کردیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے پیمرا کے چیئرمین سے ان چینلز کی تفصیلات طلب کی ہیں جنہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ تیرہ جون کو نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز نے چیف جسٹس کے بیٹے کی جانب سے مبینہ طور پر مالی فوائد لینے کے معاملے کے مرکزی کردار ملک ریاض کا ایک خصوصی انٹرویو نشر کیا گیا تھا اور بعدازاں سوشل میڈیا پر اشتہاری وقفہ جات کے دوران ملک ریاض اور ان کے ٹی وی میز بانوں مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان ہونے والی بات چیت افشاء کر دی گئی جس سے بظاہر لگا کہ یہ طے شدہ تھا۔

نجی چینل دنیا ٹی وی نے کہا ہے کہ یہ ویڈیوز چینل کو بند کروانے کی ایک سازش کے تحت لیک کی گئی ہیں تاہم ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سیاستدانوں اور جرنیلوں سمیت میڈیا جیسے ملک کے طاقتور طبقات کے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

اسی بارے میں