’ضابطۂ اخلاق مفادات و ترجیحات کا شکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں میڈیا کی صنعت میں وسیع پیمانے پر توسیع تو ہوئی ہے لیکن اس کے ضابطۂ اخلاق پر نہ تو آج تک اتفاق ہوسکا اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کا کوئی نظام بن سکا۔

پاکستان میں اخبارات ہوں یا ٹی وی چینلز کے مالکان، ملازمین کی تنظیمیں ہوں یا سرکاری ادارے ان کے اپنے اپنے ضابطۂ اخلاق ہیں۔

صحافیوں کی ملکی سطح کی ایک تنظیم ‘پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس’ یا ‘پی ایف یو جے’ کے سیکرٹری جنرل امین یوسف کہتے ہیں کہ انیس پچاس میں جب یہ تنظیم بنی اس وقت سے ضابطۂ اخلاق بنایا گیا اور صحافی اس پر عمل کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اخباری مالکان کی تنظیموں کے اپنے مفادات اور ترجیحات کی وجہ سے آج تک متفقہ ضابطہ طے نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول ٹی وی چینلز کی بہتات کی وجہ سے غیر صحافی افراد کو بطور ٹی وی میزبان بھرتی کیا گیا ہے، جسے ان کی تنظیم صحافی ماننے کو تیار نہیں اور ان ہی کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔

امین یوسف کہتے ہیں کہ صحافت سے کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے اور جو لوگ بھی رشوت لینے میں ملوث ہیں انہیں بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

پاکستان میں اخبارات اور ویب سائٹس کے خلاف شکایات سننے والے ادارے ’پریس کونسل آف پاکستان‘ کے چیئرمین اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج راجہ شفقت عباسی کہتے ہیں کہ اخباری مالکان ہوں یا ایڈیٹرز کی کونسل، صحافتی تنظیمیں ہوں یا حکومت کے مختلف ادارے ان کے اپنے اپنے ضابطہ اخلاق ہیں جو کہ نہیں ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق ایک مسودے پر متفق ہوں اور اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا آزاد اور خود مختار ادارہ جب تک نہیں بنے گا، جس میں حکومت کی مداخلت نہ ہو تب تک عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔

شفقت عباسی کہتے ہیں کہ پریس کونسل کے ضابطہ اخلاق کے مطابق صحافیوں کو پیسے دینے یا پیسے لے کر کوئی پروگرام کرنے پر پابندی ہے اور اس کی سزا بھی ہے۔ لیکن ان کے بقول اگر کسی کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ اظہار رائے کی آزادی کا شور مچاتا ہے۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر کہا کہ تاحال متفقہ ضابطہ اخلاق نہ آنے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ داری گزشتہ اور موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے ٹی وی لائسنس پہلے دیے اور قوانین بعد میں بنائے، جو کہ ایسا ہے کہ کسی کو بندوق پہلے دے دیں اور لائسنس بعد میں۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تک غلط معلومات دینے کے خلاف سول سوسائٹی اور عام لوگ متعلقہ ادارے اور افراد کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں حکومتیں میڈیا کا بازو مروڑنے کے لیے ضابطۂ اخلاق متعارف کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں وہاں ذرائع ابلاغ کے مالکان اپنے کاروباری مفادات کو اظہار رائے کی آزادی کی چادر میں لپیٹتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں