’صحافت کی دکانیں کھل گئی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ واقعات کے بعد چند طلبہ کا خیال ہے کہ صحافی صرف ایسے معاملات اٹھاتے ہیں جس سے پیسے ملتے ہیں۔

فروا زیدی نیوز چینلز کے میزبانوں سے متاثر تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ فلاحی کام سر انجام دے رہے ہیں اور یہی سوچ انہیں شعبہِ ابلاغ عامہ میں لے آئی مگر وقت نے ان کی سوچ کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

پچھلے چند عرصے سے میڈیا کی دنیا کے بڑے ناموں پر بدعنوانی کے الزامات اور دنیا نیوز نامی نجی ٹی وی کے ٹاک شو کی پسِ پردہ ریکارڈنگ منظرِ عام پر آنے کے واقعے نے مستقبل کے کئی صحافیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس شو میں میزبان مبشر لقمان اور مہر بخاری مہمان ملک ریاض سے فرمائشی سوالات کرتے اور آپس میں الجھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

فروا زیدی وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بدعنوانی کے معاملات اور دوسرے معاملات سامنے آئے تو اس سے ٹی وی پروگراموں کے میزبانوں کا تاثر تو خراب ہوا مگر اس کے ساتھ صحافت کا تصور بھی تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب میڈیا عوام دوست نہیں رہا بلکہ یہ میڈیا چند لوگوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے جو اپنے مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔

پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں نیوز چینلز کی آمد کے بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے صحافت کا رخ کیا اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں شعبہِ ابلاغ عامہ کے طالب علموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

ماہم عمر بھی ایسی ہی ایک طالبہ ہیں جو کہ سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بتایا جاتا تھا کہ صحافت کے پیشے میں اتنا پیسہ نہیں مگر مبشر لقمان اور مہر بخاری کا پروگرام دیکھ کر تو یہ نظر نہیں آیا‘۔

انہوں نے کہا ’ہمیشہ سیاستدان زیرِ تنقید رہے ہیں مگر میڈیا کے لوگ بھی آسانی سے با اثر بن سکتے ہیں۔ اگر کوئی پیسہ کمانے چاہے تو میڈیا آسان طریقہ ہے‘۔

ماہم عمر کو حالیہ ٹاک شوز سے تکلیف پہنچی ہے، اور ان کے بقول جس طرح سے ان شوز میں صحافی باتیں کر رہے تھے اس کے بعد آئندہ جو لوگ عزت اور وقار رکھتے ہیں اب اس شعبے میں آنے سے ضرور کترائیں گے۔

کراچی کی وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہِ ابلاغ عامہ کے طالب علم علی رضا نے یہ سوچ کر صحافت میں قدم رکھا تھا کہ یہ شعبہ محروم اور کمزور لوگوں کی آواز سامنے لاتا ہے مگر اب انہیں ایسا لگتا ہے کہ صحافت کی دکانیں کھل گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’یہ ہی اندازہ ہوا ہے کہ صحافی ایسے معاملات اٹھاتے ہیں جس سے پیسے ملتے ہیں۔۔۔ ان کا صرف اندازِ بیان مختلف ہوتا ہے‘۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہِ ابلاغ عامہ کے استاد طاہر مسعود کا کہنا ہے کہ صحافی سیاستدانوں اور دوسروں کا احتساب کرتے رہتے ہیں مگر ان کا اپنا کردار گھناؤنا اور افسوس ناک ہوگا، یہ احساس طالب علموں کے لیے بہت افسوس ناک ہے۔

پروفیسر طاہر مسعود کے مطابق عام لوگ بھی ان سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کیا تعلیم دیتے ہیں کہ جب یہ لوگ فارغ ہوکر میڈیا میں جاتے ہیں تو اس کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔’ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر لوگوں نے ابلاغ عامہ کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مختلف شعبوں اور اداروں سے میڈیا میں آئے ہیں‘۔

پاکستان میں عام لوگوں کو میڈیا پر بڑی حد تک اعتماد رہا ہے مگر حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات اور حالات نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔

اسی بارے میں