میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے ایک نجی چینل کی انٹرویو ویڈیو کیا سامنے آئی ملک کے میڈیا میں جیسے کہ بھونچال آگیا۔ نجی چینل دنیا ٹی وی نے کہا ہے کہ یہ ویڈیوز چینل کو بند کروانے کی ایک سازش کے تحت لیک کی گئی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے اس انٹرویو کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس کے بیٹے کے مبینہ طور پر مالی فوائد لینے کے معاملے کے مرکزی کردار ملک ریاض کے ایک خصوصی انٹرویو کی تشہیر یہ کہتے ہوئے کی کہ اس گفتگو میں کئی اہم باتوں کا احاطہ ہوگا۔

لیکن اصل بات نشریات کے پسِ پردہ بریک کے دوران ملک ریاض اور ان کے ٹی وی میزبانوں کے درمیان ہونے والی اس بات چیت میں سامنے آئی جو سوشل میڈیا پر لیک کر دی گئی۔ جس سے بظاہر لگا کہ اس انٹریو کے عنوانات، سوالات، جوابات سب پہلے سے طے شدہ تھے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کا نتیجہ جو بھی ہو، ’میڈیا گیٹ‘ کہلوائے جانے والے اس سکینڈل سے یہ موقع تو پیدا ہوا ہے کہ سیاست دانوں اور طاقتور شخصیات کا احتساب کرنے والوں کا اب شاید خود احتساب ہو۔

ایک نجی ٹی وی کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنگ کی آگ کی طرح پھیلی اور ذرائع ابلاغ میں طوفان برپا ہوگیا۔ تقریباً تمام معروف میزبانوں (اینکرز) نے اس موضوع پر کھل کر بات کی۔ مختلف چینلز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سوال اٹھایا گیا کہ ایک کاروباری شخصیت چینل کے میزبانوں اور مالکان پر اس حد تک کیوں حاوی تھی۔

معروف اینکر پرسن طلعت حسین کہتے ہیں ’اس سے ملک ریاض کی میڈیا میں رسائی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ایک پارٹی کی اتنی تشہیر کی جائے اور لوگ پیسے لے کر ان کی تعریف میں لکھتے ہیں اور اخبارات بکے ہوئے ہیں تو اس سے میڈیا کی ساکھ متاثر ہوتی ہے‘۔

بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ٹی وی میزبانوں کے باہمی اختلافات اور نفرتیں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔

پروگرام کی ایک میزبان مہر بخاری نے اپنے پروگرام میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا تمام ٹاک شوز پر ہوتا ہے تو ان پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے۔ ’یہ سب کرتے ہیں۔‘

مہر کے مطابق پروگرام کے دوسرے میزبان مبشر لقمان کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ نجی چینل دنیا ٹی وی نے اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں کہ یہ ویڈیو ’چوری‘ کیسے ہوئی اور یوٹیوب پر کیسے آئی۔

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ انصاف خریدے جانے کے معاملے سے ان اداروں کے فروخت ہو جانے پر مرکوز ہوگئی ہے جن کا کام لوگوں تک متوازن معلومات فراہم کرنا ہے۔

انٹرنیٹ پر ایسی فہرست بھی شائع ہوئی ہے جس میں نامور کالم نگار اور اینکرز کے نام شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملک ریاض سے پلاٹ، گاڑیاں اور پیسے وصول کیے ہیں۔اس مبینہ فہرست کی ان تمام اینکرز نے اپنے اپنے پروگراموں میں بھرپور تردید بھی کی ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس فہرست کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ کے میزبان حامد میر کا موقف ہے کہ یہ غلط معلومات پھیلانے کی ایک دانستہ مہم ہے۔ ’آپ کے پاس دستاویزات ہیں یا گواہ ہیں تو پھر اس کی مدد سے بات کریں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ ملک ریاض کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ ہم سے اس کے بارے میں سوال نہ اٹھائیں۔ اس نے منظم طریقے سے یہ مہم چلائی ہے‘۔

تقریباً دس سال قبل جب نجی چینلز کو خبریں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تو ایک طرح سے پاکستان میں میڈیا کا انقلاب آیا۔ ٹاک شوز نے ڈراموں سے بڑھ کر لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور اینکرز ایسی طاقت کی طرح ابھرے جن کے اثر کو تولا نہیں جا سکتا پر ظاہر ضرور تھا۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے۔ تاہم اس معاملے میں حامد میر کہتے ہیں کہ صرف اینکرز پر انگلیاں کیوں اٹھائی جا رہی ہیں، اخباروں اور چینلز کے مالکان سے یہی سوال کیوں نہیں کیے جا رہے؟

’بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہے ہیں دس دس پندرہ پندرہ منٹ کے اور ان کے پیسے مالکان کھا رہے ہیں اینکرز نہیں۔ آپ نے بھی مجھ سے اینکرز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اینکرز پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے کیونکہ پیشہ ورانہ جلن بھی ہوتی ہے۔ اس جلن کی وجہ سے لوگ غلط الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔‘

طلعت حسین کا بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان میں صرف اینکرز کو نہیں بلکہ بڑے بڑے میڈیا گروپس کو خریدا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے اکا دکا افراد کو ملا رکھا ہے لیکن ملک ریاض کے بارے میں تو بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو ملا رکھا ہے۔ ’اس بابت ثبوت نظر آتا ہے اور بولتا ہے۔ اگر ایک گروپ ملک ریاض کو خصوصی توجہ دے گا تو سوال تو اٹھیں گے کہ کس بنیاد پر یہ کچھ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت کی فلاح کے لیے تو یہ نہیں ہو رہا ہوگا؟ صحافتی اصول بھی پامال ہو رہے ہیں تو کس وجہ سے یہ ہو رہا ہے‘۔

کیا دنیا ٹی وی اور اس کی لیک ہوئی ویڈیوز سے احتساب ہوگا اور کس طرح ہوگا، تصحیح کا عمل شروع ہو گا، تو کس طرح ہو گا؟ کئی دہائیوں سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی باتیں ہوتی رہتی تھی، تاہم، کچھ ہوتا نہیں تھا۔

میڈیا امور کے تجزیہ نگار عدنان رحمت کا سوال ہے کہ کیا ضابطۂ اخلاق پر اتفاق ہو پائے گا یا نہیں۔ ’ضابطۂ اخلاق کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔ کم از کم تین ضابطے موجود ہیں لیکن مسئلہ ہی ہے کہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے لہٰذا متفقہ ضابطۂ اخلاق نہیں ہے‘۔

دوسری جانب طلعت حسین کہتے ہیں کہ میڈیا کا احتساب عوام کریں گے۔ ’میڈیا کا سب سے بڑا احتساب مارکیٹ خود کرتی ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا غرور ہوکہ ہماری کرسی پکی ہے، لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں تو یہ ہم خود سے جھوٹ بول رہے ہوں گے‘۔

احتساب، شفافیت اور اعتماد ۔۔۔ یہ الفاظ صحافی اکثر سیاست دانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیا اینکرز، اخبارات اور چینلز کے مالکان اور صحافی اپنے کہے پر عمل کر پائیں گے؟

اسی بارے میں