سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق ضروری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انٹرویو کی فوٹیج پونے دو لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں

پاکستان میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے اور پھر بعض ٹی وی چینلوں کے میزبانوں کے خلاف یکے بعد دیگرے سکینڈلز سوشل میڈیا سامنے لایا ہے اور بظاہر اس معاملے میں وہ روایتی اور پیشہ ور میڈیا پر سبقت لے گیا ہے جو ‘بریکنگ نیوز‘ اچکنے کے لیے جان لگا دیتا ہے۔

یو ٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ سوشل میڈیا کے ایسے طاقتور نام ہیں جہاں حقیقت سے لے کر قیاس، مبالغہ، الزام اور دشنام تک سب چلتا ہے کیونکہ اس کے لیے نہ تو پیشہ ور صحافی ہونا ضروری ہے اور نہ ہی تجزیہ کار۔

اور پھر اطلاع جتنی سنسنی خیز اور مصالحے دار ہوتی ہے اتنی ہی تیزی سے پھیلتی ہے۔ مطلب! ’ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا آوے‘۔

چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کے خلاف سکینڈل، جس انٹرویو کے ذریعے یو ٹیوب پر ’بریک‘ کیا گیا اسے چند دنوں میں ہی لگ بھگ سینتالیس ہزار لوگوں نے دیکھا۔

اسی طرح یو ٹیوب پر ہی اس کہانی کے اہم کردار ملک ریاض کے ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر ’پلانٹڈ انٹرویو‘ کی آف دی ریکارڈ فوٹیج پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پونے دو لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

یوٹیوب پر شائع ہونے والی انہی ویڈیوز نے پچھلے ایک ہفتے میں یہ طے کیا ہے کہ پاکستان کے روایتی اور پیشہ ور میڈیا کی خبروں، تجزیوں اور ٹاک شوز کا ایجنڈہ کیا ہوگا۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا، روایتی اور پیشہ ور میڈیا پر بازی لے گیا ہے؟

پاکستان کی وفاقی اردو یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر توصیف احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

’سوشل میڈیا میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ مقصدیت اور صداقت کے فقدان کا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو بے تحاشہ اطلاعات ہر آدمی دے رہا ہے۔ ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ واقعی بامقصد ہیں؟ وہ واقعی صداقت کے اصولوں پر پورا اترتی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ سب باتیں نہیں ہوتیں‘۔

وہ کہتے ہیں کہ خام اطلاع کے ذریعے کے طور پر تو سوشل میڈیا استعمال ہوسکتا ہے جہاں پہ آنے والے کسی پیغام یا اطلاع کی تصدیق کر کے تو خبر بنائی جاسکتی ہے مگر سوشل میڈیا میں مقصدیت نہ ہونے کا جو پہلو ہے وہ اسے روایتی میڈیا سے بہت پیچھے لے جاتا ہے۔

ماروی سرمد انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں، پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی صارفین کی شکایات کے لیے قائم کونسل کی رکن بھی ہیں اور سوشل میڈیا کی سرگرم بلاگرز میں سے ایک ہیں۔

وہ سوشل میڈیا کی بے مثل طاقت کی قائل نظر آتی ہیں۔ ’آپ کو ٹیلی وژن کے سامنے تو بیٹھنا پڑتا ہے مگر سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اپنے موبائل فون سے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا سے ہر لمحہ دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں‘۔

سوشل میڈیا کی طاقت کا ایک راز شاید یہ بھی ہے کہ اس میں اطلاع دینے والے کے لیے اپنی صحیح شناخت اور اتہ پتہ دینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور گمنام رہ کر کوئی بھی جھوٹی یا سچی اطلاع دی جاسکتی ہے۔

ماروی سرمد کہتی ہیں کہ وہ خود بھی تازہ تازہ اس کا شکار بنی ہیں۔ ان کا نام بھی صحافیوں کی اس فہرست میں شامل ہے جو ایک گمنام شخص نے اس الزام کے ساتھ فیس بک پر شائع کی انہیں ملک ریاض نے پلاٹس تحفے میں دیے تھے۔

بعد میں بحریہ ٹاؤن نے اس فہرست کو جعلی قرار دیکر مسترد کردیا۔ لیکن ماروی سرمد سمجھتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر گمنام رہ کر اطلاع دینے کی چھوٹ دینے کے جہاں نقصانات ہیں وہاں فائدے بھی ہیں۔

’مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ مصر میں اور عرب دنیا میں، سوشل میڈیا پر گمنام رہ کر بات کرنے یا اطلاع دینے کا جو فائدہ ہے اسکو استعمال کرتے ہوئے ایک پوری سماجی اور سیاسی مہم اتنی طاقتور شکل اختیار کرگئی کہ اس نے بادشاہتوں کو اٹھاکے پھینک دیا‘۔

ماروی سرمد مزید کہتی ہیں کہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کی اسی انفرادیت سے انسانی حقوق کے کارکن بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور گمنام رہ کر سوشل میڈیا پر بہت ہی کھل کر اور سخت باتیں کہتے ہیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ابلاغ کے دوسرے ذرائع کی طرح سوشل میڈیا پر کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق کا ہونا ضروری ہے ورنہ اگر سوشل میڈیا کو بار بار ایسی اطلاعات کے لیے استعمال کیا گیا جو بعد میں غلط ثابت ہوں تو پھر سوشل میڈیا کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی۔

پاکستان میں روایتی اور پیشہ ور میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز پر صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزیوں کی کئی مثالیں موجود ہیں، ایسے میں سوشل میڈیا کے سمندر کو کسی ضابطہ اخلاق کو کوزے میں بند کرنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔

اسی بارے میں