’ پرتشدد واقعات میں انتیس افراد ہلاک‘

خیبر دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مُسافر گاڑی میں اس وقت دھماکہ ہوا جب گاڑی مسافروں سے بھر گئی تھی‘

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار دلاور خان ومئر کے مطابق سنیچر کو رات گئے کوہاٹ بنوں روڑ پر پولیس کی ایک گاڑی گشت کے دوران ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ باردوی سرنگ کے دھماکے میں چار پولیس اہلکار اور تین راہگیر ہلاک اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں چھ پولیس اہلکار اور تین راہگیر شامل ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کے واقعے کے بعد علاقے میں بھاری تعداد میں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اڈے میں کھڑی ایک بس میں دھماکے کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک جبکہ ساٹھ سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی صبح تحصیل لنڈی کوتل کے اندر ذخہ خیل بس سٹینڈ پر پیش آیا۔

لنڈی کوتل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نذیر نے بتایا کہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سترہ لاشیں لائی گئیں ہیں جبکہ ساٹھ زخمی ہیں۔ شدید زخمی ہونے والوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں لائے گئے زخمیوں میں سے پانچ نے دم توڑ دیا۔ ان کے بقول بائیس افراد کی حالت نازک ہے۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے لوگوں میں زیادہ عام شہری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس اڈے میں یہ دھماکہ ہوا ہے یہ ذخہ خیل قبائل کا اڈہ ہے اور اس قبیلے نے شدت پسندوں کے خلاف لشکر بنا رکھے ہیں۔ اس قبیلے کے لوگوں پر پہلے بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں۔

انتظامیہ نے بتایا کہ مُسافر گاڑی میں اس وقت دھماکہ ہوا جب گاڑی مسافروں سے بھر گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں اب تک چودہ ہلاک جبکہ بیس سے زیادہ زخمی بتائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بم گاڑی میں پہلے سے نصب کیاگیا تھا اور دھماکے میں گاڑی بھی مکمل طور تباہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں گاڑی کے علاوہ قریب ہی سٹینڈ میں موجود لوگ بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق زخمیوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ دھماکے کے وقت قریب سکول کی چھٹی ہوگئی تھی اس لیے بچے بھی دھماکے کا نشانہ بنے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ زخمیوں میں زیادہ تر شدید زخمی ہیں جن کو ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر میں گزشتہ ایک عرصے سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی کی جاری ہے اور اس کے علاوہ شدت پسندوں کے خلاف کئی لشکر بھی بنا رکھے جس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں