حکومت بغیر کسی لحاظ کے تحقیقات کرے: بار

ملک ریاض تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت بغیر کسی لحاظ کے اس معاملے کی اعلٰی سطح پر چھان بین کرے: بار

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ارسلان افتخار اور کاروباری شخصیت ملک ریاض کے معاملے پرعدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حکومت بغیر کسی لحاظ کے اس معاملے کی اعلٰی سطح کی چھان بین کرے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کےعہدیداروں نے کہا کہ ہے کہ بار عدلیہ اور چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ حکومت ارسلان اور ملک ریاض کے معاملے میں فریقین کے ساتھ منصفانہ کارروائی کرے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جو چھان بین کرے اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے ۔

پریس کانفرنس کے دوران سپریم کورٹ بارکی نائب صدرعمرانہ بلوچ اور سیکرٹری اسلم زار بھی موجود تھے۔

یاسین آزاد نے کہا کہ کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا کسی ادارے کو نہیں دی جاسکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے سپریم کورٹ کے اس موقف کو تقویت ملی ہے یہ تین لوگوں کا معاملہ ہے اور بقول ان کے خواہ مخواہ سپریم کورٹ کو اس میں ملوث کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے نجی ٹی وی چینل کی فوٹیج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے مطالبہ کیا کہ ان سیاست دانوں ، میڈیا کے ارکان وکلاء ، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کا احتساب کیا جائے جنہوں نے ملک ریاض سےفائدے اٹھائے ہیں۔

ان کے بقول اس بات کی چھان بین ہونی چاہئے کہ آخر ہر آدمی ملک ریاض کے سامنے انتا بے بس کیوں تھا اور اس نے ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیوں کی۔

یاسین آزاد نے کہا کہ عدلیہ کے آزادی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو بھی آزاد اور خود مختار ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر رکن پارلیمان قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے کراچی کے وکیل ندیم خان کے گھرپر نیب کے چھاپے اور بلوچستان میں وکیل رہنما کامران مرتضیْ پر حملہ کی مذمت کی۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے مطالبہ کیا کہ حکومت عاصمہ جہانگیر کو ملنے والی دھمکیوں کی چھان بین کرے۔

اسی بارے میں