فوزیہ وہاب: نڈر، بے باک اور وفادار رہنما

فوزیہ وہاب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوزیہ وہاب مسلسل مدلل انداز سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا دفاع کرتی دکھائی دیں

فوزیہ وہاب کے انتقال کی صورت میں پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو جہاں ایک وفادار کارکن کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا ہے وہیں اس کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والا ایک اور سپاہی کم ہوگیا ہے۔

فوزیہ وہاب کی شخصیت کے کئی پہلو تھے، جن میں سیاست کے علاوہ سماجی اور انسانی حقوق بھی نمایاں ہے۔ اس کی وجہ سیاست میں آنے کے بعد ان کی ان شعبوں کے لوگوں سے ملاقات اور روابط تھے۔

فوزیہ وہاب انیس سو چھپن میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہیں طالب علمی کے دنوں سے سیاست سے دلچسپی رہی وہ ترقی پسند خیالات رکھتی تھیں۔

صحافی وہاب صدیقی سے شادی کے بعد وہ ایک گھریلو خاتون کی طرح زندگی گزارتی رہیں، اسی عرصے میں انہوں نے حسینہ معین کے ایک ڈرامہ میں بھی کام کیا۔

وہاب صدیقی کے انتقال کے بعد ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور انہوں نے ڈاکٹر اطہر حسین سے شادی کرلی۔ اس مرتبہ انہوں نے گھریلو زندگی کے ساتھ سیاست میں بھی پیر جمانے شروع کر دیے اور سیاسی میدان میں ان کا انتخاب پاکستان پیپلز پارٹی رہی۔

انیس سو ترانوے میں جب وزیراعظم بینظیر بھٹو نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے ایدھی ایئر ایمبولینس کے کپتان فہیم الزمان کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تو دیگر امور چلانے کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس میں فوزیہ وہاب بھی شامل تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے بعد عام انتخابات میں انہیں کراچی کے ایک حلقے سے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا گیا، انہیں اس میں کامیابی تو نصیب نہیں ہوئی مگر وہ قومی سیاست کے افق پر ابھر کر سامنے ضرور آئیں۔

بینظیر بھٹو فوزیہ وہاب سے خاصی متاثر تھیں۔ انہوں نے فوزیہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شعبۂ خواتین کا سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا اور اس منصب پر وہ دو ہزار دو تک فائز رہیں۔

میاں نواز شریف کا دور حکومت پیپلز پارٹی کے لیے ایک کڑا وقت تھا جب کئی رہنما گرفتار تھے اور احتساب بیورو اہم رہنماؤں کو جکڑ میں لانے کے لیے سرگرم تھا۔

انہی دنوں پیپلز پارٹی کی جانب سے انسانی حقوق سیل قائم کیا گیا اور فوزیہ وہاب اس کی کوآرڈینیٹر مقرر ہوئیں۔ وہ انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا سے رابطے میں رہیں اور اپنی جماعت کا بھرپور دفاع کرتی دکھائی دیں۔

یہ سرگرمیاں حقوقِ انسانی کے شعبے میں ان کی دلچسپی بڑھانے کی وجہ بنیں اور وہ خود انسانی حقوق کی کارکن بن گئیں۔ اسی پس منظر کے تحت وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لیے سرگرم رہیں۔

دو ہزار دو کے انتخابات میں فوزیہ وہاب کو خواتین کی مخصوص نشست پر کامیابی نصیب ہوئی۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ان رہنماؤں اور اراکین میں سے تھیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاست کے میدان میں کئی مرحلوں سےگزر کر اس پوزیشن تک پہنچے۔

کراچی میں دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں اتحاد اور مشترکہ امیدوار لانے کی کوششیں کی گئیں اس مشاورت میں فوزیہ وہاب شامل رہیں، انہیں جماعت اسلامی سے ایڈجسمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں وہ دوسری بار خواتین کے لیے مخصوص نشست پر کامیاب ہوئیں اور جب شیری رحمان کو وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ان سے پارٹی کے شعبۂ اطلاعات کی سیکرٹری کی بھی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور یہ ذمہ داری فوزیہ وہاب کے حصے میں آئی۔

فوزیہ وہاب ایک نڈر اور بے باک سیاسی کارکن تھیں اور ان کا جوشِ خطابت انہیں کئی بار مہنگا بھی پڑا۔ امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری پر انہوں نے کہا کہ ریمنڈ کو واپس بھیجنا ہوگا کیونکہ اس کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہے۔ اس پر اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں نے خوب شور مچایا اور فوزیہ وہاب سے سیکرٹری اطلاعات کا منصب واپس لے لیا گیا مگر انہوں نے کبھی اس بات کا شکوہ نہیں کیا۔

فوزیہ چار برس سے پاکستان کے نیوز چینلز پر مسلسل مدلل انداز سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا دفاع کرتی دکھائی دیں اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ جذبات میں آ کر پروگراموں سے اٹھ کر بھی چلی گئیں۔

چھپن سالہ فوزیہ وہاب نے اپنے سیاسی کیریئر میں تو کبھی وفاداری تبدیل نہیں کی لیکن خود ان کی اپنی زندگی ان سے وفا نہ کر سکی۔

اسی بارے میں