کراچی: سابق سیاسی عہدیدار سمیت سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظاہرین نے سڑکوں پر جگہ جگہ ٹائر جلا کر ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی

پاکستان کے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کو پرتشدد واقعات میں مزید سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق عہدیدار کی ہلاکت کے بعد مظاہرے ہوئے ہیں اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع رہائشی کمپلکس رابعہ سٹی کے بلاک جی کے ایک فلیٹ میں رینجرز نے چھاپہ مار کر لیاقت بنگش نامی ملزم کو گرفتار کیا جو پولیس ریکارڈ میں بارہ سے زیادہ جرائم کی وارداتوں میں ملوث تھا۔

ذرائع کے بقول لیاقت بنگش کے ہاتھ باندھ کر انہیں چوتھی منزل سے نیچے لایا جا رہا تھا کہ انہوں نے فرار ہونے کی کوشش میں مبینہ طور پر خود اونچائی سے چھلانگ لگا دی جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق لیاقت بنگش کی ہلاکت کے بعد اتوار کوگلستان جوہر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اورگاڑیوں پر نہ صرف پتھراؤ کیا بلکہ سڑکوں پر جگہ جگہ ٹائر جلا کر ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی۔

علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے تاہم علاقے میں سخت کشیدگی جاری ہے۔

لیاقت بنگش کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے رہ چکا تھا اور وہ اے این پی کی جانب سے کراچی کے ضلع شرقی کے عہدیدار بھی رہے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر اور سینیٹر شاہی سید نے بی بی سی کو بتایا کہ لیاقت بنگش دو یا تین سال قبل تک پارٹی کے ضلعی سالار تھے لیکن انہیں نظم و ضبط کی پابندی نہ کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

کراچی کے ضلع شرقی کی پولیس کے ڈی آئی جی شاہد حیات نے لیاقت بنگش کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم انہوں نے واقعہ کی تفصیل بتانے سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ ابھی اس واقعہ کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

ان کی ہلاکت کے ردعمل کے طور پر بعض افراد نے پولیس پر فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل نعیم بخش اور سپاہی اعجاز زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس واقعہ کے علاوہ پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی کے جنوبی علاقے بغدادی میں دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جن کی شناخت آصف اور ایوب کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے بقول دونوں نوجوان ایک سیاسی جماعت کے کارکن تھے۔ پولیس نے اس واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا۔

پولیس کے مطابق تین مزید افراد کو کراچی کے مضافاتی علاقے گڈاپ میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حاصل کی گئی معلومات کے تحت نامعلوم افراد اغواء کر کے تین افراد کو گڈاپ میں ایک مقام پر لے کر آئے جہاں انہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا اور ان کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے بقول قتل ہونے والے تینوں افراد شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔

شہر کے جنوبی علاقے شیر شاہ میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس کے بقول ہلاک ہونے والے کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس ان تمام واقعات کی تفتیش کررہی ہے تاہم اب تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق رواں برس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران کراچی میں کم و بیش ساڑھے سات سو افراد کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ سی پی ایل سی یعنی سیٹیزن پولیس لیاژن کمیٹی کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران کراچی میں سات سو تیس افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے۔