پنجاب: لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج میں شدت

لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیس بیس گھنٹے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لوگ تنگ آ گئے ہیں

پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

پیر کو فیصل آباد، سرگودھا، پسرور، شیخوپورہ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین نے بجلی کی ترسیل کے دفاتر اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔

نجی ٹیلی ویژن پر دیکھائے جانے والے مناظر میں مظاہرین کا ہجوم مختلف شہروں میں نجی اور سرکاری املاک میں توڑ پھوڑ کر رہا ہے۔

پیر کو لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں شدت آئی ہے ۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے ملک میں طویل لوڈشینڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے منگل توانائی کانفرس طلب کی ہے۔

اتوار کو ہفتہ وار چھٹی کے دن بجلی کی بندش کے خلاف صبح سے ہی احتجاج سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

مظاہرے میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ بجلی کی بیس بیس گھنٹے کی بندش نے ان کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔

اتوار کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف صوبے کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے شہر کے وسط میں واقع نیلا گنبد پر ایک احتجاجی جلسہ کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب کے شہر چیچہ وطنی میں مظاہرین جلوس کی شکل میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے میپکو پنہچے اور عمارت پر حملہ کر دیا۔ مشتعل افراد نے میپکو کے دفتر پر حملہ کرنے کے بعد پولیس سٹیشن کی طرف رخ کیا۔

بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں نے تھانے پر دھاوا بول دیا اور تھانے کے مرکزی دروازے اور وہاں پر کھڑی سرکاری موٹر سائیلکوں کو بھی آگ لگا دی۔

اس ہنگامہ آرائی کے دوران تھانے کے حوالات سے قیدی بھی بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔

چیچہ وطنی میں مظاہرین نے حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی زاہد اقبال کے گھر کا گھیراؤ کر کے پتھراؤ کیا۔

گوجرانوالہ میں شہریوں نے بجلی کی بندش کے خلاف سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کامونکے میں کیا جہاں مظاہرین نے جی ٹی روڈ کو بلاک کر دیا جس سے لاہور سے اسلام آباد آنے جانے والی ٹریفک معطل ہوگئی۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران ریل گاڑی کو بھی روکنے کی کوشش کی۔

وسطی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں بھی شہریوں نے کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے سمندری روڈ پر ٹائر جلا کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا اور گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس استعمال کی۔

پنجاب کے دیگر شہروں جہلم ،سرگودھا ، ساہیوال ، بہاولنگر اور حافظ آباد میں بھی اجتجاج مظاہرے ہوئے۔

اسی بارے میں