جام یوسف کی پاکستان واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت پر یقین ہے اور عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر اعتماد ہوگا

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام یوسف خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد جام یوسف دبئی چلے گئے تھے، پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ نے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں عدالت پر یقین ہے اور عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر اعتماد ہوگا۔ بقول ان کے عدلیہ نے ہمیشہ مثبت فیصلے دیے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جام یوسف کا کہنا تھا کہ وہ حفاطتی ضمانت پر ہیں اور مزید ضمانت کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

بلوچستان کے بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی چھبیس اگست دو ہزار پانچ کو ایک فوجی آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے، اس وقت لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے جام یوسف وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔

نواب اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل بگٹی نے سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ، سابق گورنر اویس غنی اور سابق وزیراعلیٰ جام یوسف کے خلاف اپنے والد کے قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بلوچستان کی مقامی عدالت ان نامزد ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کرچکی ہے۔

جام یوسف نے اپنے وکیل کی معرفت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ جس فوجی آپریشن تھا میں نواب اکبر کی ہلاکت ہوئی اس کی سربراہی جنرل پرویز مشرف کر رہے تھے صوبائی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا کیونکہ اس حوالے سے انہوں نے کوئی مشورہ نہیں دیا تھا۔

جام یوسف کے وکیل نے عدالت کو درخواست کی تھی کہ جام یوسف کی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ وطن واپس آ کر اپنے پر دائر مقدمات کا سامنے کر سکیں، عدالت نے جام یوسف کی پانچ لاکھ کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

واضح رہے کہ جام یوسف کی حفاظت پر مامور دستے میں وہ ہی لوگ شامل تھے جو سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ نظر آتے ہیں۔