لوڈشیڈنگ پر احتجاج، ٹرین کو آگ لگا دی گئی

فائل فوٹو (لاہور) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج پُر تشدد ہوتا جا رہا ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف پرتشدد احتجاج کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا اور خانیوال میں احتجاج کے دوران ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل ہجوم نے ایک ریل گاڑی کو آگ لگا دی جس کی وجہ اس کی دو بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

یہ واقعہ کامونکے سٹیشن پر پیش آیا جہاں مظاہرین نے لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ٹرین کو آگ لگا دی۔

ریلوے کی جنرل مینجر جنید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ باؤ ٹرین کی چار بوگیوں کو آگ لگائی گئی جس سے دو بوگیاں جزوی طور پر اور دو مکمل طور پر جل گیئں۔

ریلوے حکام کے مطابق مظاہرین نے پہلے انجن پر پتھراؤ کیا اور انجن کو ریل کی بوگیوں سے الگ کر کے انہیں آگ لگا دی۔

باؤ ٹرین صبح سیالکوٹ سے لاہور آتی ہے اور شام کو واپس سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوتی ہے۔

جنرل مینجر جنید قریشی نے بتایا کہ ریلوے پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔جبکہ اس واقعہ کے بعد ریل گاڑیوں کی حفاظت کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رابطہ کیا گیا ہے اور بقول ان کے آئی جی پولیس نے سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ادھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کو نوٹس لیتے ہوئے توانائی کانفرنس طلب کی ہے جو انیس جون کو ہوگی۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے بجلی کے ترسیل کے دفاتر اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور لاٹھیوں سے سڑک کنارے لگے ہوئے سائن بورڈز کو توڑ ڈالا۔

کئی مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ہونے والے احتجاج کی ذمہ داری وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف پر عائد ہوتی ہےجبکہ پنجاب کے وزیر قانون رانا نثاء اللہ خان نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا خطرہ ہوگا۔

رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ ’گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو جن افراد کی تعداد اس وقت ہزاروں میں ہے وہ لاکھوں میں ہوجائے گی۔‘

وزیر بجلی اور پانی چودھری احمد مختار نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک آدھ دن میں صورت حال بہتر ہوجائے گی۔

چودھری احمد مختار نے بتایا کہ نئے شیڈول کے تحت شہری علاقوں میں آٹھ جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔

بجلی کی طویل ترین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پنجاب کے کئی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹوں تک بجلی بند رہتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو تیل کی فراہمی کے لیے رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔

بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق اس وقت اٹھارہ ہزار پانچ سو میگا واٹ بجلی کی طلب ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پیداوار دس ہزار پانچ سو میگا واٹ ہے جس کے باعث آٹھ ہزار میگا واٹ بجلی کمی کا سامنا ہے۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق بجلی کی طویل لوڈیشڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرے فیصل آباد اور خانیوال میں ہوئے جہاں مظاہرین حفاظتی عملے کی فائرنگ کی وجہ سے زخمی بھی ہوئے۔

بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کے باعث ایک شہر سے دوسرے شہر آنے جانے والے افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مظاہرین ٹائر جلا کر سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا۔

پیر کے روز صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال میں مظاہرین نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی احمد یار ہراج اور ایرا کے سربراہ حامد یار ہراج کے گھروں پر پتھراؤ کیا۔ اس کے رد عمل میں گارڈز نے فائرنگ کی جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تاہم مظاہرین نے ان پر پتھر پھینکے۔ احتجاج کی وجہ سے خانیوال کے بازار بند کر دیے گئے۔

فیصل آباد میں مزدوروں اور شہریوں نے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے تین بینکوں پر حملہ کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی ۔ مشتعل افراد نے لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں اور انہوں نے سی این جی پمپس کو بھی نقصان پہنچایا۔

ضلع نارروال کے علاقے ظفر وال میں مظاہرین نے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی طارق انیس کی گاڑی پر پتھراؤ کیا جس پر ایم این اے کے گارڈز نے فائرنگ کی اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔

سرگودھا میں تاجروں اور شہریوں کے احتجاج کے دوران واپڈا کے دفتر پر دھاوا بول دیا گیا جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مظاہرین نے ریلوے ٹریک پر دھرنا دیا۔

گوجرانوالہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران جی ٹی روڈ پر مظاہرے کیے گئے جس سے لاہور سے اسلام آباد آنے جانے والی ٹریفک رک گئی۔

اسی بارے میں