سپریم کورٹ میں کیا ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سماعت کے دوران بھی اعتزاز احسن ماضی کے برعکس کافی خاموش دکھائی دے رہے تھے

سپریم کورٹ میں منگل کی صبح سے ہی فضاء میں’کسی بڑے فیصلے‘ کا احساس موجود تھا۔

گزشتہ کئی روز سے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں نے جو ریمارکس دیے اور جس جلدی میں فیصلہ سنانے کی کوشش دکھائی دی اُس سے محسوس ہورہا تھا کہ شاید ججوں نے فیصلہ کر لیا ہے بس اب اسے سنانے کی دیر ہے۔

منگل کو جب عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سہ پہر تین بجے کے بعد فیصلہ سُنایا تو وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن اور اٹارنی جنرل عرفان قادر کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ دونوں فیصلہ سُنائے جانے سے دو گھنٹے قبل ہی کمرہ عدالت سے چلے گئے تھے۔

بعدازاں معلوم ہوا کہ ان افراد کو اعلیٰ حکومتی شخصیت نے مشاورت کے لیے طلب کیا تھا۔ اس سے بھی محسوس ہوتا تھا کہ وزیر اعظم کے وکلاء کو فیصلہ ’اچھا‘ نہ آنے کا احساس ہوگیا تھا۔

سماعت کے دوران بھی اعتزاز احسن ماضی کے برعکس کافی خاموش دکھائی دے رہے تھے۔ فیصلہ سُنائے جانے کے بعد وکلاء نے سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس اور موجودہ عدلیہ کے ججز کے حق میں نعرے لگائے۔ ان کا نعرہ وہی جو نو مارچ دو ہزار سات کے بعد سڑکوں پر راج کر رہا تھا دوبارہ سنائی دیا۔

’چیف تیرے جانثار، بے شمار بےشمار‘ تاہم نئی اختراع ’مک گئی تیری کہانی، گو گیلانی گو گیلانی، سامنے آئی۔‘

جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگا رہی تھی تو حکمراں پیپلز پارٹی کا دفاع کرنے کے لیے محض دو خواتین موجود تھیں۔

انہوں نے بڑی دلیری سے وکلاء کے سامنے موجودہ حکومت کے حق میں نعرے لگائے۔ تاہم اُن کی آواز ان وکلاء کے نعروں میں دب کر رہ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فیصلہ سُنائے جانے کے بعد وکلاء نے سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس اور موجودہ عدلیہ کے ججز کے حق میں نعرے لگائے

گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے بیٹے خرم کھوسہ پیپلز لائرز فورم کے ارکان کے ہمراہ موجود تھے تاہم اُنہوں نے بھی ان حالات میں چوری چھپے نکل جانے میں ہی عافیت جانی۔

ان درخواستوں کی سماعت سے پہلے ہی کمرہ عدالت وکلاء اور صحافیوں سے بھرا پڑا تھا۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل شروع کیے تو اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر سات رکنی بینچ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم جج اُنہیں بارہا روکتے رہے کہ وہ صرف اپنے دلائل کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھیں۔

حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل بھی سماعت کے دوران عدالت پہنچے تاہم بینچ کا موڈ دیکھنے کے بعد وہ بھی جلد ہی رخصت ہوگئے۔

اس دوران کمرہ عدالت میں اُن وکلاء نے یلغار کر دی جو سپریم کورٹ کے وکیل نہیں تھے۔ ان وکلاء کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور انہیں وکلاء کے حلقے میں’ٹرپل ون بریگیڈ‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

ان وکلاء کو دیکھنے کے بعد اٹارنی جنرل عرفان قادر کے لہجے میں جو اپنے دلائل میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے تھے نرمی آگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منگل کی صبح سے سکیورٹی بھی معمول سے زیادہ دیکھنے کو ملی۔ غیرمعمولی سکیورٹی کا ایک اشارہ کمرہء عدالت کے باہر رینجرز کی موجودگی بھی تھی

سپریم کورٹ کی انتظامیہ کی جانب سے سوموار کی شب ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے کورٹ روم نمبر ون میں داخلہ صرف اُن وکلاء کا ہوگا جن کا اندراج سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر ہے۔

یہ غیرمعمولی اعلان بھی کسی بڑے فیصلے کا پتہ دے رہا تھا۔ منگل کی صبح سے سکیورٹی بھی معمول سے زیادہ دیکھنے کو ملی۔ غیرمعمولی سکیورٹی کا ایک اشارہ کمرہء عدالت کے باہر رینجرز کی موجودگی بھی تھی۔

عدالت نے عمران خان کے وکیل حامد خان اور اےکے ڈوگر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے ظفر علی شاہ کو بارہا بیٹھنے کو کہا۔

آخر کار ظفر علی شاہ نے اپنی خفت مٹانے کے لیے کہا کہ ’جناب میں آپ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ میں کوئی اٹارنی جنرل نہیں کہ ہر بات پر ضد کروں۔‘ اس بات پر پورے کورٹ روم میں زور کا قہقہ بلند ہوا۔

اے کے ڈوگر نے جواب الجواب میں صرف یہی کہا کہ یہاں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جبکہ حکمران عدالتوں کا احترام نہیں کرتے۔

انہوں نے عدالت میں یہ شعر بھی پڑھ کر سنایا کہ ’ہم کو تو میّسر نہیں مٹی کا دیا بھی، گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن۔‘

اسی بارے میں