وزیرِاعظم گیلانی کے چار سال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption توہین عدالت کا مرتکب قرار دیے جانے کے باوجود انہوں نے اخلاقی طور پر عہدے سے علیحدگی اختیار نہ کی

پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی وزیر اعظم فوجی بغاوت میں نہیں بلکہ قانونی جنگ میں اپنا عہدہ کھو بیٹھا ہے۔

یہ اعزاز بھی ایک ایسے وزیر اعظم کو نصیب ہوا جو جمہوری طریقے سے منتخب ہوئے۔اور طویل مدت تک اس اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں اس مرتبہ فوجی بغاوت نہیں بلکہ عدالتی یلغار جمہوری تسلسل میں خلل ثابت ہوئی ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب کئی مشکل سیاسی چیلنجوں سے کامیابی سے گزرنے کے بعد خیال تھا کہ اب وہ آخری ہدف یعنی پانچ سالہ مدت بھی مکمل کر لیں گے لیکن ایسا اب مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیت پہلے ہی جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں ناامید دکھائی دے رہی تھیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی ارسلان افتخار کی صورت میں جوابی حملے کو نظر انداز کرتے ہوئے سخت موقف برقرار رکھا ہے۔

اس کے جمہوریت پر اثرات کا انحصار اب صدر آصف زرداری پر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کی نظریں ٹرپل ون بریگیڈ پر بھی رہیں گی کہ موجودہ حکومت سے وہ اپنے اختلاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا فیصلہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بلاشبہ ایک طویل عرصے تک وزیر اعظم رہے ہیں لیکن عام تاثر یہی ہے کہ کوئی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے تھے۔

ماسوائے سیاسی اتحادیوں کے، گلی میں گھومنے والا عام شہری اس چار سالہ حکومت سے کوئی زیادہ مطمئن نہیں ہے۔ وہ نظر یا وژن جو بڑے بڑے چیلنجوں کے حل کے لیے چاہیے تھی حکمرانوں میں دکھائی نہیں دی۔

عام شہریوں کی مشکلات سے قطع نظر ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ بھی وقتاً فوقتاً بڑے بھدے انداز میں سامنے آتا رہا۔ ایک جانب اگر سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی مسلسل تان نے عدالت عظمٰی کے ساتھ کشیدگی برقرار رکھی تو دوسری جانب فوج کے ساتھ بھی کبھی آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت لانے، کیری لوگر بل اور میمو گیٹ کے دوران ٹھن جاتی تھی۔ اکثر سیاسی حکومت کو ہی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

اگر گیلانی حکومت کا کوئی بھی بڑا کارنامہ تھا تو بعض مبصرین کے خیال میں وہ سب سے زیادہ مدت تک حکمرانی ہے۔ آئینی اصلاحات، آغاز بلوچستان پیکج اور صوبہ سرحد کو نئی شناخت دینا چند اہم پیش رفت ہیں لیکن ان سے زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جہاں تک عام غریب آدمی کی کسمپرسی کا تعلق ہے، بات جُوں کی تُوں ہے ۔

قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حکومت ایک اتحادی حکومت تھی لہٰذا زیادہ وقت عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ قاف اور متحدہ قومی مومنٹ کو منانے میں ہی گزرا۔ حکومت میں چار سال تک رہنا ہی بڑی کامیابی رہی۔

پیپلز پارٹی کے لیے حکومت میں آنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ مخدوش سکیورٹی صورتحال تھی۔ اگرچہ اس میں بہتری کے آثار ہیں لیکن دہشت گرد حملے مسلسل جاری ہیں۔ پاکستانی طالبان قیادت اور حقانی نیٹ ورک کی موجودگی وجہ تشویش اب بھی موجود ہیں۔ گیلانی حکومت نے امریکہ اور فوج کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ اس کا نیتجہ یہ رہا کہ امریکی ڈرون حملے زیادہ ہوئے بلکہ امریکیوں نے پہلی مرتبہ گھر میں گھس کر ایبٹ آباد میں کارروائی کی۔

معاشی افق پر بھی صورتحال میں ابتری ہی دیکھنے میں آئی۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی تاریخ محض ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ معیشت محض تین فیصد بہتری دیکھی گئی اور سال دو ہزار آٹھ کے بعد سے روپے کی قدر میں پچاس فیصد گراوٹ آئی ہے۔

بدعنوانی کے معاملے میں بھی حج اور ایفیڈرین جیسے کئی سکینڈل سامنے آئے لیکن آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سیاسی مقدمات ہی تھے یا واقعی ان میں دھاندلی ہوئی تھی۔

توہین عدالت کا مرتکب قرار دیے جانے کے باوجود انہوں نے اخلاقی طور پر عہدے سے علیحدگی اختیار نہ کی اور اب عدالت کو یہ ناخوشگوار ذمہ داری سرانجام دینی پڑی۔

اور کچھ ہو نا ہو اس سے پیپلز پارٹی کو یقینًا ایک اور سیاسی ’شہید‘ مل گیا ہے۔

اسی بارے میں