کراچی میں ہلاکتیں،ایم کیو ایم کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیر کی شب متحدہ قومی موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا علامتی بائیکاٹ کیا۔

سندھ اسمبلی میں منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو نارتھ ناظم آباد سے ایم کیو ایم کے سیکٹر رکن افسر اور دو ہمدروں کو اغواء کیا گیا مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور بعد میں ان کی تشدد شدہ لاشیں ملیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ انہوں نے پندرہ جون کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا تھا جب سابق رکن اسمبلی شاکر علی کے بھائی کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کیا کہ ان واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

فیصل سبزواری کے مطابق یہ سوال کیا جاتا ہے کہ نائن زیرو پر چھاپہ کیوں نہیں مارا جاتا مگر وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نائن زیرو اور آس پاس سے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کس کو پناہ نہیں دیتے، بعد میں متحدہ کے اراکین نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے فورس طلب کی گئی ہے جو ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

انہوں نے ٹارگٹ کلنگز کے واقعات کو ایک بار پھر جمہوریت اور اتحادی حکومت کے خلاف سازش قرار دیا اور پولیس افسران کو متنبہ کیا کہ اگر وہ ان واقعات کی روک تھام میں ناکام رہے تو انہیں فارغ ہونا پڑے گا۔

لیاری سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی رفیق انجینیئر کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے کے لوگوں کی زندگیاں محدود ہوگئی ہیں، ان کو مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں پرتشدد واقعات میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں، یہ واقعات بھینس کالونی، جوہر آباد، خواجر اجمیر نگری اور کورنگی میں پیش آئے۔

اسی بارے میں