’فیصلے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں: شاہ محمود قریشی

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کے خلاف ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ( ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج کا فیصلہ یہ روایت قائم کرتا ہے کہ ہر شخص قانون کی نظر میں ایک جیسا ہے اور اگر وہ سزا یافتہ ہے تو وہ اپنے عہدے کے لیے نااہل ہوجاتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے وہ نظام کو پٹڑی سے اترنے دے یا کوئی ایسا اقدام ہو جو غیر آئینی ہو اور پاکستان کی عوام جمہوریت اور آئین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور وہ کریں گے بھی۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور ہمیں اس فیصلے پر مکمل اطمینان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی صاحب نہ وزیر اعظم نہیں رہے اور نہ ہی ان کی کابینہ موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل ہے وہ کسی اور کو جسے وہ مناسب سمجھیں آئین کے مطابق وزیراعظم منتخب کرلیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

’مجھے (جمہوریت) کو کوئی نقصان دکھائی نہیں دے رہا، ملک میں قبل از وقت انتخابات کا راستہ موجود ہے، نئے وزیراعظم کو منتخب کرنے کا راستہ موجود ہے تو نئے وزیراعظم کو منتخب کرلیں، جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور پوری قوم اس پر متّفق ہے کہ جمہوریت کو تسلسل سے جاری رہنا چاہیے۔‘

جماعت اسلامی کے پروفیسر اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے سپریم کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

’مجھے افسوس ہے کہ گیلانی صاحب نے عدالت کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے آمنے سامنے لانے کی کوشش کی جو جمہوریت کے لیے ان کا بدترین اقدام تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے نے آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کو قائم کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا چاہیے‘۔

بلوچستان کی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق ’یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے تو اسے زیادہ بری صورت حال کیا ہوسکتی ہے وہ بھی ایسی صورت حال میں جب آپ پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے عالمی سطح پر ملک پر بہت خراب اثرات مرتب ہوں گے اسی لیے میں سمجھتاہوں کہ اس فیصلے سے ملک کو خاص طور پر جمہوریت کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں