وزیراعظم کی نا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: پیپلز پارٹی

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما بظاہر پر اعتماد نظر آئے

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی نا اہلی کا عدالتی فیصلہ وہ قبول کرتے ہیں اور وزیراعظم کے ہٹ جانے سے کابینہ بھی ختم ہوگئی ہے۔

یہ بات پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر، سیکریٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ اور دیگر نے عدالتی حکم کے بعد ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مشاورت کے بعد ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس منگل کی رات کو ایوان صدر میں طلب کر لیا ہے اور ان کی مشاورت کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما بظاہر پر اعتماد نظر آئے اور ان کے ہمراہ وہاں موجود کارکنوں نے ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ کے نعرے بھی لگائے۔

قمر الزمان کائرہ سمیت ختم ہونے والی کابینہ کے وفاقی وزراء جن میں نذر محمد گوندل بھی شامل ہیں وہ سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں اور ان کی گاڑیوں پر پرچم لگے نظر آئے۔ انہیں پولیس کا پروٹوکول بھی بدستور حاصل ہے۔

جہانگیر بدر نے کہا کہ ان کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہے اور صورتحال کو آئندہ مقررہ مدّت تک کے انتخابات تک لے جائیں۔

جب جہانگیر بدر سے پوچھا گیا کہ عدالت نے وزیراعظم کو چھبیس اپریل سے نا اہل قرار دیا ہے تو اس دوران ان کے کیے گئے اہم فیصلوں، جس میں بجٹ کی منظوری اور سپریم کورٹ کے ججوں کی بھرتی بھی شامل ہے، ان کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں عدالت کے تفصیلی حکم کے بعد قانونی ماہرین سے مشاورت کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ’چھبیس اپریل کے عدالتی حکم میں وزیراعظم کی نا اہلی کا معاملہ واضح نہیں تھا اور اب عدالت نے اُسے واضح کیا ہے۔ کیا یہ چیف جسٹس کے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات کا نتیجہ ہے؟‘ تو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نےگول مول جواب دیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو ختم کرنے کے لیے صدرِ پاکستان کوئی آرڈیننس وغیرہ جاری نہیں کر رہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارلیمان کی بالادستی پر آنچ آنے نہیں دیں گے کیونکہ وہ تمام اداروں پر پارلیمان کو بالا دست سمجھتے ہیں۔

جہانگیر بدر نے بتایا کہ ایوان صدر میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں موجودہ صورتحال میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار شریک چیئرپرسن اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو دیا گیا ہے۔

بی بی سی کو حکومتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے وزیراعظم کے لیے جو نام زیر غور ہیں ان میں مخدوم شہاب الدین سرفہرست ہیں۔ لیکن حتمی فیصلہ بعد میں ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب سینیئر وزیر مخدوم امین فہیم وزیراعظم کے نمائندے کے طور پر برازیل میں موسمی تبدیلوں کے بارے میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہیں، اب ان کی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

اسی بارے میں