مخدوم شہاب الدین کون ہیں؟

مخدوم شہاب الدین تصویر کے کاپی رائٹ national assembly website
Image caption مخدوم شہاب الدین نے سنہ 1990 میں اس وقت پارلیمانی نشست جیتی جب پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو بری طرح شکست ہوئی تھی

پاکستان کی برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے مخدوم شہاب الدین کا تعلق سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرح جنوبی پنجاب سے ہے۔ وہ یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں ٹیکسٹائل کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور اس کے علاوہ انہیں فائنانس اور صحت کے وفاقی وزیر بھی تھے۔

مخدوم شہاب الدین کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے ایک با اثر خاندان سے ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے رکن ہونے کے علاوہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کے صدر بھی ہیں۔

انہوں نے 1990 میں اس وقت پارلیمانی نشست جیتی تھی جب پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی بری طرح ہار گئی تھی۔

1993 میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کی کابینہ میں انہیں سٹیٹ منسٹر فار فائنانس بنا دیا گیا۔

سنہ 2002 میں سابق فوجی جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں مخدوم شہاب الدین کو ان کے رشتہ دار مخدوم خسرو بختیار نے شکست دی۔ خسرو لندن سکول آف اکنامکس کے تعلیم یافتہ تھے۔

سنہ 2008 میں ایک مرتبہ پھر مخدوم شہاب الدین اپنے آبائی حلقہ سے الیکشن جیت گئے اور انہیں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ دسمبر 2009 میں انہیں وزیرِ صحت کا چارج بھی دے دیا گیا۔

دسمبر 2010 میں کابینہ میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی گئی اور اس مرتبہ انہیں ڈیفنس پروڈکشن کا وفاقی وزیر بنایا گیا اور فروری 2011 میں ٹیکسٹائل کی وزارت بھی سونپ دی گئی۔

اسی بارے میں