ڈیرہ بگٹی:بارودی سرنگ کا دھماکہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان کے شورش زدہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں باپ بیٹے سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکے سے ایک موٹرسائیکل تباہ ہوگئی۔ پولیس نے لاشیں ورثاء کے حوالے کردی ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کی صبع سندھ سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے تحصیل سوئی میں نیپا بگٹی نامی شخص اپنی موٹرسائیکل پر سوئی شہر کی طرف جارہا تھا کہ آرڈی دوسو اڑتیس میں جانی بیڑی کے مقام پر ایف سی کے ایک چیک پوسٹ کے قریب ان کی موٹرسائیکل نامعلوم افراد کی جانب سے زیرزمین چھپائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ دھماکے کے نتیجے میں نیپا اس کا چار سالہ بیٹا اور ایک احمد حسین بگٹی ساتھی موقع پر ہلاک ہوگیا۔

واقعے کے بعد ایف سی نے لاشیں پولیس تھانہ آرڈی دوسواڑتیس پہنچا دی جہاں پولیس نے لاشیں ورثاء کے حوالے کردی ہیں۔

جعفرآباد کے ایک مقامی صحافی کے مطابق سال دوہزار چھ میں بلوچ بزرگ قوم پرست رہنماء نواب محمد اکبرخان بگٹی کی فوجی آپریشن کے دوران ہلاکت کے بعد سیکورٹی فورسز اور بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب سے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ اسی وجہ سے مکورہ سڑک بھی بند کردی گئی تھی۔حکومت کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد حال ہی میں سوئی تک جانے والی جانی بیڑی سڑک کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ڈیرہ بگٹی میں باردوی سرنگ کے مختلف دھماکوں میں سیکورٹی فورسز سمیت در جنوں افراد ہلاک وزخمی ہوچکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ بہت سے علاقے ابھی تک ایسے ہیں جہاں بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی نہیں ہوئی ہے جس کے باعث آئے روز بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے۔

اسی بارے میں