اٹھارہ سو پچیس دن کا جادوئی ہندسہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک سال میں تین سو پینسٹھ اور پانچ سال میں اٹھارہ سو پچیس دن ہوتے ہیں۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد نیم جمہوری ملک ہے جہاں آج تک کوئی قانونی حکومت، گورنر جنرل یا وزیرِاعظم اٹھارہ سو پچیس دن کا جادوئی ہندسہ نہ چھو سکا۔ (صرف ایک منتخب سیاسی صدر فضل الٰہی چوہدری نے اپنے پانچ برس مکمل کیے۔ وہ تیرہ اگست انیس سو بہتر سے سولہ ستمبر انیس سو اٹھہتر تک پانچ سال ایک ماہ اور دو دن صدر رہے)۔

ہر حکومت عزت سے آئی ضرور لیکن عزت سے گئی نہیں۔ جو زندہ رہے وہ یا تو لات کھا کے نکلے یا لات مار کے۔ سب خوشی خوشی آئے پر کوئی خوشی خوشی نہیں گیا۔ کسی کی عزت رکھی تو موت نے رکھی۔ جیسے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اور پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان۔اگر کسی سے جان چھوٹی تو وہ بھی موت نے چھڑوائی جیسے ضیاء الحق۔

پہلے گورنر جنرل کی وفات کے بعد دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کی لاش کو کندھا دیا اور سپردِ خاک کرتے ہی وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھال کر گورنر جنرل ہاؤس کی چابیاں ایک بیوروکریٹ ملک غلام محمد کو تھما دیں۔ ملک غلام محمد نے پانچ سو اڑتالیس دن میں ہی خواجہ ناظم الدین کو لات مار کر ان کی پالتو مرغیوں سمیت ایوانِ وزیرِ اعظم سے چلتا کیا اور امریکہ سے پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو امپورٹ کرکے وزیرِ اعظم کی گدی پر بٹھا دیا۔

لیکن گورنر جنرل غلام محمد کو بھی سکون کا سانس نصیب نہیں ہوا۔ ناظم الدین کی آہ فالج کی شکل میں گری اور غلام محمد کو بیماری کی چھٹی لینے کے لیے اسکندر مرزا کو قائم مقام گورنر جنرل بنانا پڑا۔ اسکندر مرزا نے ایک دن ڈنڈا ڈولی کرکے مفلوج غلام محمد کو کار میں ڈلوا کر ان کی نجی رہائش گاہ پر پہنچا دیا اور خود کو قائم مقام سے مستقل گورنر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ سفیرِ پاکستان محمد علی بوگرہ کو واشنگٹن سے امپورٹ کرکے وزیرِ اعظم بنایا مگر آٹھ سو سینتالیس دن بعد دوبارہ واشنگٹن کی فلائٹ پر بطور سفیر سوار کرادیا۔

پھر اسکندر مرزا نے اپنے تھیلے سے جھرلو نکالا ۔ ’ایگڑ بیگڑ شپ شپا کونٹا مالو پیکا ٹھو‘ کا منتر پڑھا اور مسلم لیگ کو ریپبلیکن پارٹی بنا دیا۔ پھر اس منتر سے چوہدری محمد علی کا بطور وزیرِ اعظم جنم ہوا۔ لیکن چوہدری صاحب مداری کے ہاتھ سے نکل گئے اور سنہ چھپن کا آئین بنا ڈالا۔ پھرمداری نے گورنر جنرل سے صدر کا روپ دھارا اور چھپن کے آئین کے تحت انتخابات کے خوف سے منتر پڑھ کر چوہدری محمد علی کو تین سو ستانوے دن کی وزارتِ عظمیٰ چٹا کر غائب کر کے اقتدار کا چراغ حسین شہید سہروردی کے حوالے کردیا۔

جب حسین شہید سہروردی عوامی لیگ اور مسلم لیگ کا اتحاد بنانے میں کامیاب ہوگئے تو انہوں نے صدر سے درخواست کی کہ اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکیں۔ اگر سہروردی یہ ووٹ حاصل کرلیتے تو اس کے بعد وہ صدر کے پر کترنے میں کامیاب ہوجاتے۔ صدر نے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا اور سہروردی چار سو دن کی وزارتِ عظمیٰ چھوڑ کر ڈھاکہ روانہ ہوگئے۔

اس کے بعد صدر اسکندر مرزا نے آئی آئی چندریگر کو ساٹھ دن کے لیے وزیرِ اعظم کی ملازمت پر رکھا۔ پھر فیروز خاں نون کو دو سو پچانوے دن برداشت کیا۔ جب آئین کے تحت الیکشن کا مطالبہ زور پکڑ گیا تو سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو ایوب خان کے ہاتھوں مارشل لاء لگوا دیا گیا۔

ایوب خان نے سوچا کہ جب سب کچھ مجھے ہی کرنا ہے تو مرزا یہاں کیا کررہا ہے۔ مرزا نے ایوب کو خوش کرنے کے لیے چوبیس اکتوبر کو وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان بھی دے دیا۔ چار دن وزیرِ اعظم رہ کر ایوب خان نےسوچا کہ صدارت بھی کیا بری ہے۔

چنانچہ ایوب نے چند جرنیلوں کو ستائیس اکتوبر کی نصف شب ایوانِ صدر بھیجا۔ ایک جنرل نے پستول کنپٹی پر رکھا، دوسرے نے ٹائپ شدہ کاغذ سامنے رکھا اور تیسرے نے مرزا کے ہاتھ میں پین تھما دیا۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔۔۔ مرزا کو اگلی فلائٹ سے لندن روانہ کردیا گیا۔ جہاں مرزا گیارہ برس تک ایک ریسٹورنٹ چلاتے چلاتے جاں بحق ہوگئے۔ ایوب خان نے لاش تک پاکستان لانے کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ رضا شاہ پہلوی نے مرزا کو تہران میں دفن کرنے کی اجازت دے دی۔

ایوب خان نے وزراتِ عظمیٰ کی بانسری توڑنے کے لیے صدارتی نظام کا بانس کھڑا کردیا۔ مگر پچیس مارچ انیس سو انہتر کو یحییٰ خان نے ایوب خان سے اسی طرح کھڑے کھڑے اقتدار منتقل کروایا جیسے ایوب نے اسکندر مرزا سے کروایا تھا۔ (اور یحییٰ خان کے ساتھ بھی بیس دسمبر کو وہی ہوا جو اس نے ایوب خان کے ساتھ اور ایوب خان نے اسکندر مرزا کے ساتھ کیا تھا)۔

مگر جانے سے پہلے یحییٰ نے ایک عجب حرکت کی۔ اپنے ہی منعقدہ عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے شیخ مجیب الرحمان کو اقتدار منتقل کرنے کے بجائے اپنی رخصتی سے تیرہ دن پہلے نورالامین کو وزیرِ اعظم اور زوالفقار علی بھٹو کو نائب وزیرِ اعظم بنا دیا۔ لیکن بیس دسمبر کو اقتدار صدر سے وزیرِ اعظم کو منتقل ہونے کے بجائے نائب وزیرِ اعظم کو منتقل ہوا اور نائب وزیرِ اعظم نے صدر بنتے ہی وزیرِ اعظم کو چار ماہ کے لئے نائب صدر بنا دیا۔

(پاکستان میں نہ نور الامین سے پہلے اور نہ بعد میں کوئی نائب صدر رہا۔ پاکستان میں نہ تو کوئی ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے اور نہ بعد میں سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہا)

ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ چودہ اگست انیس سو تہتر کو مسلح افواج کی پریڈ سلامی سے شروع ہوئی اور چودہ سو اکیس دن بعد مسلح افواج کے ہاتھوں نظربندی پر ختم ہو کر تختہِ دار پر جھول گئی۔ وزیرِ اعظم کے عہدے کو اگلے آٹھ برس کے لیے الماری میں رکھ دیا گیا۔

پھرمحمد خان جونیجو کو غیر جماعتی اسمبلی کے مسلم لیگی اِنکیوبیٹر سے پیدا کرکے چویس مارچ انیس سو پچاسی کو بطور وزیرِ اعظم باہر نکالا گیا۔ جب اس بچے نے سیاسی پر پرزے نکالنے شروع کیے تو گیارہ سو باسٹھ دن برداشت کرنے کے بعد اسے وزارتِ عظمیٰ سے عاق کردیا گیا۔ مگر اسے عاق کرنے والے کو بھی اکیاسی روز بعد زندگی نے عاق کردیا۔

پھر یحییٰ خان سے ضیاء الحق تک سب کو اقتدار منتقل کروانے والے غلام اسحاق خان صدر بنے۔ انہوں نے دو منتخب وزرائے اعظم کو حلف دلوایا۔ بینظیر بھٹو کو چھ سو بارہ دن اور نواز شریف کو دو قسطوں میں نو سو سڑسٹھ دن برداشت کیا۔ لیکن پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ وزیرِ اعظم جاتے جاتے صدر کو بھی ساتھ لے گیا۔ دونوں کو فوج نے پیچھے سے پلو پکڑے پکڑے قرآن کے سائے میں آبدیدہ ہو کر رخصت کیا۔ (اس دوران غلام مصطفیٰ جتوئی اور بلخ شیر مزاری نے بالترتیب نگراں وزارت عظمیٰ کے مزے لوٹے۔)

غلام اسحاق کے بعد قائم مقام صدر وسیم سجاد اور قائم مقام وزیرِ اعظم معین قریشی کے تحت منتخب وزیرِ اعظم کی پوسٹ کے لیے انتخابی اشتہار دیا گیا اور ایک بار پھر بینظیر بھٹو اس آسامی کے لیے کامیاب قرار پائیں۔ فاروق لغاری صدر بن گئے۔ مگر دوسری اننگز میں بینظیر بھٹو ایک ہزار ایک سو تیرہ رنز بنا کر فاروق لغاری کی غیر متوقع گیند پر آؤٹ ہوگئیں۔

ملک معراج خالد کو نیوٹرل ایمپائر کے طور پر لایا گیا اور فاروق لغاری نے نواز شریف کو کھیلنے کی دعوت دی۔ لیکن نواز شریف نے پہلے چوکے میں ہی لغاری کا سر پھاڑ دیا۔ اس کے بعد بھولے بھالے نواز شریف نے گراؤنڈ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے ایک وفادار رفیق تارڑ کو دو تہائی اکثریت کی باڑھ کا چوکیدار مقرر کردیا۔ لیکن قبضہ گروپ نو سو سڑسٹھ دن بعد ہی میاں صاحب کو باڑھ سمیت چک کے لے گیا۔ چوکیدار بیچارا گھر میں دبک کے بیٹھ گیا اور ایک برس بعد اسے بھی سیلوٹ مار کر گاڑی میں بٹھا اسلام آباد سے لاہور روانہ کردیا گیا۔

(میاں صاحب چاہیں تو تالیفِ قلب کے لیے کہہ سکتے ہیں کہ میں پاکستان کا پہلا وزیرِ اعظم ہوں جس نے تین قسطوں میں کُل ملا کے پانچ سال تین ماہ انیس دن حکومت کرلی۔)

نواز شریف کی رخصتی کے بعد پاکستان کو پہلا ایسا حکمران چیف آف آرمی سٹاف ملا جو خود کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے بجائے چیف ایگزیکٹو کہتا رہا۔ پھر اسی چیف ایگزیکٹو کی ٹوپی پر صدر کی کیپ بھی فٹ ہو گئی۔ اور قوم کو ریفرینڈم کی ٹوپی پہنا کر انٹیلی جینس ایجنسیوں کی مڈ وائفری میں دو ہزار دو کی اسمبلی کا جنم ہوا۔

اس اسمبلی نے وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کو جنم دیا۔ لیکن جمالی صاحب بھی پانچ سو انہتر دن ہی برداشت ہوسکے۔ پھر چوہدری شجاعت حسین کو اکیاون دن کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے انڈوں پر بٹھا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں شوکت عزیز کا جنم ہوا جنہیں پیار سے وزیرِ اعظم کہہ کر پکارا جاتا رہا۔

مگر اس بچے کو لاڈ پیار راس نہ آیا اور اس نے سپریم کورٹ کے سر پر ٹھونگیں مارنے شروع کردیں۔ جب سپریم کورٹ نے آنکھیں دکھائیں تو بچے کے والدین میدان میں آگئے اور وہ دنگل شروع ہوا کہ آج تک ختم ہونے میں نہیں آرہا۔اس بیچ شوکت عزیز گیارہ سو تیس دن گذار کر وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایسے نکلے کہ مڑ کر ہی نہیں دیکھا۔ ان کے سرپرست پرویز مشرف کو الیکشن کے نتائج نے بھگا دیا۔

خالی جگہ آصف زرداری نے لے لی اور پاکستان کی صدارت ایک بار پھر آرام کرسی سے رولر کوسٹر میں تبدیل ہوگئی۔ پھر بھی امکان یہی تھا کہ اس دفعہ وزیرِ اعظم ٹُک ٹُک کرکے ہی سہی لیکن مدتِ اقتدار کی پہلی مکمل سنچری ضرور بنا تے ہوئے اٹھارہ سو پچیس دن کے جادوئی ہندسے کو چھو لے گا۔ مگر وکٹ ننانوے رنز پر ہی اڑ گئی۔ اگلا کھلاڑی اگر پندرہ بیس رنز بھی بنا جائے تو بڑی بات ہے۔

شام ہونے کو ہے اور ایمپائر خراب لائٹ کا جواز بنا کر کسی بھی وقت میچ روکنے کا اشارہ دے سکتا ہے۔

اسی بارے میں