’ہنگامہ آرائی پر ارکان کی رکنیت معطل‘

پنجاب اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپیکر نے ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کے لیے روک دی اور تمام اراکین ایوان سے باہر نکل گئے

پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی کرنے پر تین خواتین سمیت چار اراکین اسمبلی کی رکنیت سیشن کے اختتام تک معطل کر دی جس کے بعد پنجاب اسمبلی کے سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا۔

ہنگامہ آرائی کا آغاز بدھ کو شروع ہوا تھا جب مسلم لیگ قاف (ہم خیال) کے ایک رکن شیخ علاؤ الدین نے خواتین کے بارے میں چند نازیبا جملے ادا کیے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق شیخ علاؤالدین ان دنوں حکومتی پارٹی مسلم لیگ نون کے حامی ہیں۔ان کے مبینہ نازیبا الفاظ پر اپوزیشن کی خواتین نے شور مچانا شروع کردیا اور شیخ علاؤالدین کی جانب جوتی پھینکی۔

مسلم لیگ نون کی ایک خاتون نے بھی اپنی جوتی اتار کر پھینکی تھی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے مسلم لیگ نون کی نسیم ناصر خواجہ، مسلم لیگ قاف کی سیمل کامران اور ثمینہ خاور، ہم خیال گروپ کے شیخ علاؤالدین کی رکنیت موجودہ سیشن کے لیے معطل کر دی تھی لیکن جمعرات کی صبح سیمل کامران اور اور ثمینہ خاور حیات سیکورٹی گارڈز سے زور زبردستی کر کے اندر داخل ہوگئیں۔

ایوان میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی ایک ممبر کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور کرسی اٹھا کر مارنے کی کوشش کی گئی۔

سپیکر نے ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کے لیے روک دی اور تمام اراکین ایوان سے باہر نکل گئے

وقفے کے بعد سیکیورٹی گارڈز نے پابندی کا شکار خواتین کو ایوان میں داخلے سے روک دیا۔اس بار بھی زبردستی کی کوشش ہوئی لیکن اس مرتبہ سکیورٹی گارڈز نے سمیل کامران اور ثمینہ خاور حیات کو داخلے سے روک دیا۔

سیمل کامران کی خاتون سیکیورٹی اہلکار سے ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد وہ رونے لگیں۔

پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر نے انہیں گلے لگایا اور خود بھی رونے لگیں۔اسی دوران سیمل کامران بے ہوش ہوکر گر گئیں انہیں ایمبولینس میں فوری طور ہسپتال بھجوا دیا گیا۔

اسی بارے میں