نواز شریف اور عمران خان، پی پی کے ہوم گراؤنڈ میں

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان کی کراچی ریلی کو بہت کامیاب قرار دیا گیا تھا

پاکستان کی قومی اسمبلی جب وزیراعظم کا انتخاب کر رہی ہوگی، اس وقت حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دو اہم مخالف رہنما میاں نواز شریف اور عمران خان سندھ میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہوں گے۔

یہ محض اتفاق ہے یا منصوبہ بندی کہ جمعہ کو ہی دونوں رہنماؤں کے جلسہ عام پاکستان پیپلز پارٹی کے ہوم گراؤنڈ میں رکھے گئے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سیہون شریف میں جلسہ عام سے مخاطب ہوں گے، جس میں سابق وفاقی وزیر لیاقت علی جتوئی کی کوششوں سے کچھ مقامی شخصیات مسلم لیگ ن میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کریں گی۔

لیاقت جتوئی سندھ کے مرحوم قوم پرست رہنما عبدالحمید جتوئی کے فرزند ہیں اور سندھ کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر بھی رہے چکے ہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وہ وفاقی وزیر تھے۔

لیاقت جتوئی کا تعلق تحصیل میھڑ سے ہے جو سیہون سے دور ہے مگر ان کا جلسہ ایسے شہر میں رکھا گیا ہے جہاں ان کا ووٹ بینک ہے اور نہ ہی اثر رسوخ ۔ سیہون شریف کے قریب ہی جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کا شہر ہے، جہاں سے ان کے پوتے جلال محمود شاہ انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

جلال محمود شاہ کی جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ایک بڑے عرصے سے اتحاد کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں جماعت کے رہنما شاہ محمد شاہ اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کے درمیاں بھی مذاکرات ہوچکے ہیں۔

میاں نواز شریف نے اس سے پہلے بھی سندھ میں جلسے کیے ہیں اور ان میں شرکت کے لیے قوم پرست رہنماؤں ایاز لطیف پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی اور جلال محمود شاہ کو دعوت دی گئی مگر ایسا لگتا ہے کہ رابطوں اور ملاقاتوں کے باوجود فریقین میں اعتماد کا فقدان ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کراچی کے بعد سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں جمعہ کی شام جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس شہر میں بھی متحدہ قومی موومنٹ ایک بڑا اثر رسوخ رکھتی ہے، جبکہ آس پاس کے اضلاع میں مخدوم شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے معتقدین کی بھی قابل ذکر تعداد آباد ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی اتحادی جماعت ہے اور تنظیم کا ایک وفد صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے پیپلز پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ مگر اس سے پہلے کراچی میں عمران خان کے جلسے کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ یہ جلسہ متحدہ کی افرادی حمایت کے باعث کامیاب ہوا مگر ایم کیو ایم اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

جلسے سے ایک روز پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کراچی پہنچ چکے ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کسی قسم کے رابطے کی تردید کی ہے۔

کراچی ایئر پورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار کسی طاقتور شخص کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے اس سے پہلے ہمیشہ مظلوم اور غریب لوگوں کے خلاف فیصلے آتے رہے ہیں، بقول ان کے یہ ایک نئے پاکستان کا آغاز ہے عوام کو جشن منانا چاہیئے۔

میاں نواز شریف اور عمران خان جمعہ کو سندھ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ یہاں بھی پاکستان پیپلز پارٹی مخالف آواز موجود ہے، اس سے ایک روز پہلے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی انسٹھ ویں سالگرہ منائی گئی اور کراچی سمیت اکثر شہروں میں بینظیر بھٹو کی تصاویر آویزاں کرکے عوام کو ان کی قربانی کی یاد دہانی کرائی گئی۔

میاں نواز شریف جب بھی سندھ آئے صوبائی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس ضرور سامنے آتی ہے ، پچھلے دنوں دوبارہ اس وزرات کا قلم دان سنبھالنے والے شرجیل انعام میمن نے جمعرات کی شام میاں نواز شریف پر کئی الزامات عائد کیے۔

شرجیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایسی باتیں کر رہے ہیں جیسے ان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا پہلے سے علم تھا۔ بقول ان کے پاکستان پیپلز پارٹی اداروں میں تصادم نہیں چاہتی کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت بوکھلاٹ کا شکار ہوجائیگی مگر اتحادیوں نے صحیح وقت میں صحیح فیصلہ کرکے سازش کو ناکام بنا دیا۔

اسی بارے میں