راجہ پرویز اشرف وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکمران اتحاد نے بلا آخر راجہ پرویز اشرف کو وزارتِ عظمی کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

اس بات کا اعلان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے متحدہ قومی موومنٹ کے حیدر عباس رضوی، عوامی نیشنل پارٹی کے افراسیاب خٹک اور مسلم لیگ (ق) کے سردار بہادر احمد خان کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ اخباری کانفرنس میں کیا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا وزارتِ عظمیٰ کے لیے راجہ پرویز اشرف کے نام کے لیے تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی گئی۔

راجہ پرویز اشرف کا سیاسی سفر

راجہ پرویز اشرف اس نامزدگی سے قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طور پر یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں شامل تھے۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کی تحصیل گوجر خان سے ہے۔ وہ سنہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں انہیں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی مقرر کیا گیا۔

بطور وزیر پانی و بجلی انہوں نے پہلے ہی سال اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں لوڈشیڈنگ اس سال دسمبر تک ختم کر دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا جس کی وجہ سے لوگ انہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان پر کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبے میں بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کئے گئے۔ اس بابت ان کا ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہا۔

اخباری کانفرنس سے خطاب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ رواں سال انتخابات کا سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ کے تمام فیصلوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو قومی اسمبلی کی سپیکر نے نئے وزیراعظم کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں مخدوم شہاب الدین، راجہ پرویز اشرف اور قمر الزماں کائرہ کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار مہتاب عباسی اور جعمیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے تھے۔

قومی اسمبلی میں آج شام مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے کے اجلاس میں توقع ہے کہ نئے وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

ادھر، مخدوم شہاب الدین نے آج پشاور میں ہائی کورٹ سے ایفیڈرین مقدمے میں عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔ ان کے خلاف اینٹی نارکاٹس فورس کے ورانٹ گرفتاری نے ان کی وزارت عظمی کی امیدوں پر پانی پھر دیا تھا۔

اسی بارے میں