وزیراعظم ’نامزد ملزم‘ نہیں: نیب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے کہا ہے کہ نومنتخب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور کے مقدمے میں’ نامزد ملزم‘ نہیں ہیں لیکن اس مقدمے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ نیب ایک مرتبہ راجہ پرویز اشرف سے تحقیق کر چکی ہے۔

نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ رینٹل پاور کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نومنتخب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے بیان کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر یہ ٹیم مناسب سمجھے گی تو اُنہیں دوبارہ بھی طلب کر سکتی ہے۔

ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ نیب حکام نے رینٹل پاور کمپنیوں سے اب تک دو ارب بیس کروڑ روپے واپس لیے ہیں۔ نیب حکام کے مطابق نو کمپنیوں کے خلاف تحققیات جاری ہیں۔

تاہم سپریم کورٹ نے رینٹل کے بجلی گھروں سے متعلق اپنے فیصلے میں وزارت پانی و بجلی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ جب رینٹل پاور کے معاہدے ہوئےتھے تو اُس وقت راجہ پرویز اشرف پانی وبجلی کے وزیر تھے۔

سپریم کورٹ نے نیب کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو ہر پندرہ روز کے بعد آگاہ کرے۔

نیب حکام کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھائیس اپریل کو راجہ پرویز اشرف کو نیب ہیڈ کوراٹر طلب کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے افسران نے اُن سے پوچھ گچھ کی جو تین گھنٹے تک جاری رہی تھی۔

جس وقت نیب حکام نے نومنتخب راجہ پرویز اشرف کو طلب کیا تھا اُس وقت اُن کے پاس وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان تھا۔

یاد رہے کہ اس سال مارچ کے آخر میں کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزارت پانی وبجلی، وزارت خزانہ، واپڈا اور دیگر اداروں کو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران متعدد کمپنیوں نے سات ارب روپے سے زائد کی رقم مارک اپ کے ساتھ واپس کی ہے جو وزارت خزانہ کی طرف سے ان کمپنیوں کو ایڈوانس کی مد میں دی گئی تھی۔

ان کمپنیوں نے ایڈوانس لینے کے باوجود بھی اپنی پیدوار شروع نہیں کی تھی۔ یہ تمام تیل کے بجلی گھر تھے اور سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ جتنی رقم ان کرائے کے بجلی گھروں کو دی گئی ہے اتنی رقم پن بجلی کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی تو حالات مختلف ہوتے۔

نومنتخب راجہ پرویز اشرف نے بھی سپریم کورٹ میں بیان میں تسلیم کیا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی بجلی پن بجلی سے مہنگی پڑ رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سات کرائے کے بجلی گھروں میں سے تین کام کر رہے ہیں جن کی پیدوار پچاس میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ باقی بجلی گھر تیل نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔

عدالتی حکم ملنے کے بعد نیب کے حکام نے ان کمپنیوں کے ایگزیکٹو اور دیگر چودہ حکام کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو کہا۔ جن کمپنیوں کے عہدیداروں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں اُن کمپنیوں میں ای پاور، والٹر پاور نوڈیرو ون، کارکے رینٹل پاور اور گلف پاور شامل ہیں۔ نیب حکام کے مطابق ان کمپنیوں کے ذمہ دار افراد کو پلی بارگین کرنے کی بھی آفر کی گئی ہے۔

اس منصوبے سے متعلق حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما مخدوم فیصل صالح حیات اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں کے ساتھ اس منصوبے میں ہونے والی بدعنوانیوں کے ثبوت بھی لگائے گئے۔

مخدوم فیصل صالح حیات نے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں میں لی جانے والی کک بیکس میں بڑا حصہ صدر آصف علی زرداری کو جاتا ہے۔

ان درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ حکومت کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے کی جانچ پڑتال کروائے۔ راجہ پرویز اشرف اور مخدوم فیصل صالح حیات شدید اختلافات کے باوجود ایک ہی کابینہ میں شامل رہے۔

کرائے کی بجلی گھروں کے مقدمے کی سماعت کے دوران مخدوم فصیل صالح حیات جب وزیر بنے تو اُنہوں نے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی۔

اسی بارے میں